7 اگست کی ہڑتال سے متعلق خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پورے پاکستان میں احتجاج ہوگا اور عوام شاہراہوں پر نکل کر مہنگائی، ظالمانہ ٹیکسوں اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بند کر کے احتجاج میں شریک ہوں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن ہوگا، نہ پتھراؤ ہوگا اور نہ ہی تشدد کیا جائے گا، تاہم اگر حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کیں تو آئینی اور جمہوری حق کے مطابق اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج صرف ایک دن تک محدود نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر اس تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بھرپور عوامی شرکت یقینی بنائی جائے جبکہ کارکن چوکوں، چوراہوں، بازاروں اور تعلیمی اداروں کے باہر عوامی آگاہی مہم چلائیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے علماء، طلبہ، خواتین، کسانوں اور مزدور تنظیموں سے رابطے تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ 7 اگست کو سہ پہر 3 سے 4 بجے کے درمیان مختلف شاہراہوں پر احتجاج کا آغاز کیا جائے گا جبکہ تمام شہروں میں ریلیاں نکال کر مقررہ مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران ایمبولینس اور دیگر ہنگامی سروسز کے لیے راستہ کھلا رکھا جائے گا۔ کارکن عوام کو پیٹرول پر عائد لیوی اور اضافی ٹیکسوں کے اثرات سے آگاہ کریں جبکہ کراچی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، پشاور، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں میں بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی مہنگائی، بجلی، پیٹرول، آئی پی پیز اور مافیا کلچر کے خلاف عوامی تحریک کو مزید آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 7 اگست کا احتجاج پاکستان میں عوامی سیاست کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے کارکن پوری یکسوئی اور نظم و ضبط کے ساتھ احتجاجی مہم کو کامیاب بنائیں۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد آل پاکستان پیٹرول پمپ مالکان ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ تعین، ڈیلرز کے مارجن اور دیگر مطالبات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس کے دوران حکومت نے ڈیلرز کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم ڈیلرز کے مسائل سے آگاہ ہے اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ احتجاج اور ہڑتال کی کال حکومت کے اس حالیہ فیصلے کے خلاف دی گئی تھی، جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہر ماہ کی یکم یا پھر15 روز بعد ردوبدل کیا جاتا تھا، بعد ازاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث قیمتوں کا تعین ہفتہ وار بنیادوں پر ہونے لگا، جب کہ اب حکومت نے اسے روزانہ کی بنیاد پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔