سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت جماعت اسلامی کی ثالثی کی پیشکش قبول کر لیتی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی تو یہ خونریزی نہ ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف الیکشن کے نام پر  بندر بانٹ  جاری ہے، جب کہ دوسری جانب مظاہرین سے بات چیت کے بجائے گولی اور طاقت کی زبان میں گفتگو کی جا رہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ایسے عاقبت نااندیشانہ اور ظالمانہ فیصلے کشمیر کی آزادی کی تاریخی جدوجہد کو عملاً سبوتاژ کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ڈھٹائی چھوڑ کر اپنا طرزِ عمل تبدیل کرے اور فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا پرامن اور دیرپا حل تلاش کرے۔