سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت جماعت اسلامی کی ثالثی کی پیشکش قبول کر لیتی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی تو یہ خونریزی نہ ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف الیکشن کے نام پر بندر بانٹ جاری ہے، جب کہ دوسری جانب مظاہرین سے بات چیت کے بجائے گولی اور طاقت کی زبان میں گفتگو کی جا رہی ہے۔
راولا کوٹ میں فائرنگ اور شہریوں کے قتل اور زخمی کیے جانے کی مذمت کرتے ہیں۔ حکومت اگر ہماری ثالثی کی پیشکش مان لیتی اور مذاکرات کرتی تو یہ خون نہ بہتا۔ ایک طرف الیکشن کے نام پر بندر بانٹ جاری ہے اور دوسری طرف مظاہرین سے مذاکرات کے بجائے گولی اور طاقت کی زبان میں بات ہورہی ہے۔ ان…
— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) July 28, 2026
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ایسے عاقبت نااندیشانہ اور ظالمانہ فیصلے کشمیر کی آزادی کی تاریخی جدوجہد کو عملاً سبوتاژ کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ڈھٹائی چھوڑ کر اپنا طرزِ عمل تبدیل کرے اور فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا پرامن اور دیرپا حل تلاش کرے۔







