حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال تشویشناک ہے اور کشمیر کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔ گزشتہ 80 برس سے پاکستان ایک واضح مؤقف پر قائم ہے، تاہم حکومت نے ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو مزید پیچیدہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ کشمیریوں کے مطالبات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں اور حکومت کسی ایسے اقدام سے گریز کرے جس سے صورتحال مزید خراب ہو۔ جماعت اسلامی اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم حکومت کے جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسے کسی راستے کا انتخاب نہ کرے جس سے حالات مزید کشیدہ ہوں۔ کوئی بھی ایسا قدم جو حالات کو مزید خراب کرے، پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ ایک امید پیدا ہوئی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے پیش رفت ممکن ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آئین پاکستان کے خلاف کسی بھی معاملے پر بات نہیں ہو سکتی، تاہم حکومت کو چاہیے کہ تمام مؤثر اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا کر مذاکرات کا آغاز کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کو کبھی بھی ناراض نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں انتخابات کا ماحول بن چکا ہے، اس لیے حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ شفاف اور پرامن انتخابات کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔
اس موقع پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ حافظ نعیم الرحمان کی آمد پر ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے مشعل ملک نے ان سے رابطہ کیا تھا، جب کہ یاسین ملک نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کر رکھی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیریوں نے ہمیشہ اپنی تحریک پاکستان کے پرچم تلے چلائی ہے اور ان کے شہداء پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیر کے معاملے پر جذبات کے بجائے عقل و دانش سے فیصلے کیے جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ کشمیر کی قیادت کا ایک بڑا وفد ان سے ملاقات کے لیے آیا تھا اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا خط بھی پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے وفد کو دھرنا ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم اگرچہ دھرنا برقرار رہا لیکن مزید کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بھی بات کی ہے اور حکومت اس وقت مشاورت کر رہی ہے، جس کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں تو پھر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کی وضاحت بھی کرنی چاہیے۔
انہوں نے حکومت سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر کے معاملے پر حکومت کے ساتھ ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ قوت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے، جب کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کے انعقاد کے لیے بھی سازگار ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے۔






