ملزم سعد عباسی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے سماعت کے دوران ملزم سے استفسار کیا کہ یہ کام کیوں کیا؟ جس پر سعد عباسی نے جواب دیا کہ میں لڑکی کے ساتھ تھا، بندہ آ کر ہمیں ڈسٹرب کر رہا تھا۔
ملزم کے اس بیان پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے، ڈسٹرب کیا؟ کیا اچھا کام کر رہے تھے جو ڈسٹرب کیا؟
بعد ازاں عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم سعد عباسی کو شناختی پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
اے ٹی سی کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، جس میں اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر راجا نوید حسین اور تفتیشی افسر اختر حسین بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ تفتیشی افسر نے ملزم کی شناختی پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق ملزم کو گزشتہ روز گرفتاری کے بعد چہرہ ڈھانپ کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ملزم پر سنگین نوعیت کے جرم کا الزام ہے، جس کے نتیجے میں پاک فضائیہ کے ایک حاضر سروس افسر کی جان گئی۔
عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو 20 جولائی 2026 کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے، جب کہ جیل حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ شناختی پریڈ مکمل ہونے تک ملزم کا سر، چہرہ یا حلیہ تبدیل نہ ہونے دیا جائے اور اس کی شناخت مخفی رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ اگر مقررہ مدت میں شناختی پریڈ نہ ہو سکے تو ملزم کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش کرنے کے بجائے صرف روبکار عدالت میں پیش کی جائے۔
پولیس کے مطابق سعد عباسی کے خلاف تھانہ مارگلہ میں قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم ایک خاتون کو ہراساں کر رہا تھا، جس پر پاکستان فضائیہ کے افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق نے مداخلت کی۔ ملزم پہلے موقع سے چلا گیا، تاہم کچھ فاصلے پر جا کر واپس آیا اور گروپ کیپٹن عاصم طارق پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔





