تفصیلات کے مطابق نجی ادارے اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے کیس پر اظہار خیال کیا، جس میں اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار سمیت دیگر افراد کے نام سامنے آئے ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان کے خیال میں اسحاق ڈار کو اس معاملے پر بالکل بات نہیں کرنی چاہیے اور جو شخص ان سے اس معاملے پر بات کرے، اس سے زیادہ غیر منطقی بات کوئی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو محض رشتہ داری کی بنیاد پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، خواہ وہ اسحاق ڈار ہوں یا کوئی اور۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کے رشتہ دار پر جرم کا الزام عائد ہو تو اس کی بنیاد پر متعلقہ شخصیت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کے بقول جرم جس نے کیا ہے، اگر خدانخواستہ وہ پکڑا بھی نہ جاتا، تب بھی اس کے رشتہ داروں کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کی شکایت موصول ہوتے ہی مقدمہ درج کیا گیا اور ملزمان کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے متاثرہ خواتین کو عدالت میں پیش کیا، جہاں ان کے دفعہ 164 کے تحت بیانات بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں اور اب عدالت ہی انصاف فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کے کیس سے اسحاق ڈار کا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت اس مقدمے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر سینیٹر فیصل واوڈا کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت موجود ہیں تو وہ انہیں منظر عام پر لائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ متاثرہ فریق کو مکمل انصاف فراہم ہو۔ ان کے مطابق، اس کیس میں ابتدائی طور پر انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں، جبکہ اب مقدمہ عدالت میں چلے گا اور فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ اگر جرم ثابت ہوا تو ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔