ڈی آئی جی آپریشنز نے کیا بتایا؟
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی دو خواتین کی بازیابی کے لیے سیف سٹی پر کال موصول ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں خواتین 26 جون کو اسلام آباد پہنچیں اور 29 جون کو لاہور آئیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ ان کی گاڑی کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ ٹریس کیا گیا اور خواتین کی بازیابی کے لیے سرگودھا میں چھاپہ مارا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک گھر پر چھاپے کے دوران اہل خانہ نے بتایا کہ متعلقہ افراد نائب وزیراعظم کے رشتہ دار ہیں۔ گاڑی کی لوکیشن کی مدد سے رضا ڈار کو ٹریس کیا گیا۔
فیصل کامران نے مزید بتایا کہ مسلسل تحقیقات کے باعث خواتین کو بازیاب کرانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اسپین کے سفارت خانے سے رابطہ کر کے ایک خاتون کی تفصیلات معلوم کی گئیں، جس پر سفارت خانے نے بتایا کہ اس کا تعلق وینزویلا سے ہے۔ بعد ازاں ہالینڈ کے سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ سفارت خانوں سے رابطے کے بعد دونوں خواتین میڈیکل معائنے اور بعد ازاں دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے پر آمادہ ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں خواتین کے بیانات عدالت کے سامنے ریکارڈ کیے گئے، جب کہ اس موقع پر نیدرلینڈز کے قونصلر بھی موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ سفارت خانوں کی درخواست پر خواتین کو فوری واپس بھیجنا تھا، اس لیے دفعہ 164 کے بیانات کے بعد انہیں بحفاظت ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں خواتین پولیس کی تحقیقات سے مطمئن تھیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ جسمانی ریمانڈ کے بعد تحقیقات میں مزید پیش رفت ہوئی اور ملزمان سے اہم برآمدگیاں بھی کی گئیں۔ ان کے مطابق دفعہ 164 کے بیانات میں واضح ہو گیا کہ کس شخص نے زیادتی کی اور کس نے دھمکیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے والد نے جب سیف سٹی پر کال کی تو اسپین کی پولیس بھی ان کے ساتھ موجود تھی۔
فیصل کامران نے کہا کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے واضح ہدایت تھی کہ کیس کی تفتیش مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے اور جو بھی ملوث ہو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایس ایچ او کو مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر بھیجا گیا تھا، تاہم ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق مجسٹریٹ کا گھر کھلا تھا، کیونکہ وہ ایک یا دو روز قبل دوسری جگہ منتقل ہو چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کے گھر میں داخل ہونے پر متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا، کیونکہ کسی جج کے گھر پر چھاپے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
باس نامی شخص کون ہے؟
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے پریس کانفرنس کے دوران غیر ملکی خواتین کے اغوا اور مبینہ زیادتی کیس میں گرفتار پراسرار کردار باس کے بارے میں بھی بتایا۔
انہوں نے کہا کہ اس کیس میں باس کا کردار وحید نامی ایک شخص ادا کر رہا تھا، جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خواتین نے تصویر دیکھ کر اس شخص کی شناخت کی اور بتایا کہ یہی وہ شخص ہے جسے سب باس کہہ کر پکارتے تھے۔
یاد رہے کہ لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس سے سامنے آنے والا دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تاوان اور جنسی زیادتی کا کیس نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
پولیس ایف آئی آر میں کیا بتایا گیا؟
پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق دونوں خواتین کی مرکزی ملزم رضا ڈار سے پہلی ملاقات اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ہوئی۔ الزام ہے کہ اسی ملاقات کے بعد ان کے درمیان تعلقات قائم ہوئے اور بعد میں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق ویزوں کے انتظامات بھی مبینہ طور پر ملزم کی جانب سے کیے گئے۔ دونوں خواتین 29 جون 2026 کو لاہور پہنچیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ دوستوں سے ملاقات اور کاروباری معاملات کے سلسلے میں پاکستان آئی تھیں۔
دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش میں کرپٹو کرنسی اور مالی لین دین کا پہلو بھی زیرِ تحقیق ہے، تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
لاہور پہنچنے کے بعد کیا ہوا؟
ایف آئی آر میں خواتین نے الزام لگایا ہے کہ ایئرپورٹ سے نکلنے کے بعد انہیں ایک رہائش گاہ پر لے جایا گیا، جہاں انہیں اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا گیا۔ انہیں کئی گھنٹوں تک محبوس رکھا گیا، تشدد کیا گیا، رہائی کے بدلے بھاری رقم طلب کی گئی اور متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
ایف آئی آر میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے تقریباً 15 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
مدد کی پہلی کال کیسے پہنچی؟
کیس کا اہم موڑ اس وقت آیا جب پولیس ایمرجنسی 15 پر اسپین سے ایک فون کال موصول ہوئی۔ پولیس کے مطابق یہ کال متاثرہ خواتین میں سے ایک کے والد نے کی، جنہوں نے اپنی بیٹی کے اغوا کی اطلاع دی۔
اس اطلاع کے بعد لاہور پولیس نے کارروائی شروع کی، سیف سٹی کیمروں کی مدد سے مشتبہ افراد کا سراغ لگایا اور چند گھنٹوں کے اندر دونوں خواتین کو بازیاب کرا لیا۔ پولیس کے مطابق چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا جب کہ ایک ملزم فرار ہو گیا، جس کی تلاش جاری ہے۔
عدالت میں خواتین نے کیا کہا؟
بازیابی کے بعد دونوں خواتین کو مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش کیا گیا۔ عدالتی کارروائی بند کمرے میں ہوئی، تاہم بعد ازاں مختلف میڈیا اداروں میں متاثرہ خواتین کے مبینہ بیانات کے کچھ حصے سامنے آئے۔
ان میں سے ایک خاتون نے الزام لگایا کہ مسلح افراد نے انہیں باندھا، تشدد کیا، اسلحے کے بٹ سے مارا اور انکار کے باوجود جنسی زیادتی کی۔ دوسرے بیان میں بھی اغوا، تشدد، تاوان اور جنسی زیادتی کے الزامات دہرائے گئے۔
ان بیانات کی مکمل عدالتی تصدیق ابھی منظرِ عام پر نہیں آئی ہے، تاہم پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دونوں خواتین نے اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں۔
پولیس کی تفتیش کس طرف جا رہی ہے؟
تحقیقات کے دوران پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا۔ پراسیکیوشن نے عدالت سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تاکہ پولیس مزید شواہد اکٹھے کر سکے، فرانزک معائنہ مکمل کرے اور فرار ملزم کی گرفتاری کی کوشش جاری رکھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں، بشمول مبینہ مالی تنازع، ڈیجیٹل شواہد، موبائل فونز، سفری ریکارڈ اور فرانزک رپورٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔





