ڈان نیوز کے مطابق بوائلر پھٹنے کے بعد فیکٹری میں آگ لگ گئی جبکہ دھماکے سے اطراف میں موجود 9 گھروں کی چھتیں بھی منہدم ہوئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے فیکٹری اور گھروں کے ملبے سے چار بچوں اور خواتین سمیت 13 افراد کی لاشیں نکالیں اور 20 زخمیوں کو الائیڈ اسپتال منتقل کیا، جہاں 10 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

پولیس کے مطابق فیکٹری منیجر بلال کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ فیکٹری مالک قیصر چغتائی جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا، جس کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔

علاقہ مکینوں نے رہائشی علاقے میں قائم فیکٹری کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ہدایت کی کہ ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ ادارے امدادی کارروائیوں میں مکمل تعاون فراہم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رکھیں جبکہ ٹریفک پولیس ریسکیو گاڑیوں کی جائے حادثہ تک رسائی یقینی بنائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں بھی فیصل آباد کی ایک ٹیکسٹائل مل میں اسٹیم بوائلر پھٹنے سے ایک درجن مزدور زخمی ہوئے تھے اور دھماکے سے فیکٹری میں آگ لگنے کے ساتھ ایک ہال کی چھت بھی متاثر ہوئی تھی۔