ایف آئی اے کے مطابق فیسکو کے چار سابق سی ای اوز اور ایک صنعتی گروپ کے پانچ ڈائریکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق 2007 سے 2015 کے دوران ملزمان نے فیسکو حکام کی مبینہ ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر بجلی کی خرید و فروخت کر کے قومی خزانے کو تقریباً 11 ارب 96 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ متعلقہ صنعتی گروپ نے لائسنس کے بغیر بجلی فروخت کی، جبکہ معاہدہ ختم ہونے کے باوجود بھی بجلی کی فراہمی جاری رکھی گئی۔

تحقیقاتی ادارے نے فیسکو کے دو سابق سی ای اوز، خورشید عالم اور احمد سعید اختر، کو گرفتار کر کے عدالت سے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

ایف آئی اے نے دیگر ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کر دیے ہیں، جبکہ صنعتی گروپ کی ایک نمائندہ کو بیرونِ ملک جانے سے روک کر تحقیقات میں شامل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔