پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ذمہ دار اور متوازن پالیسی اختیار کی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، پاکستان ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن حل کا حامی رہا ہے اور اسی پالیسی کی بدولت ملک کا عالمی تشخص مزید مضبوط ہوا ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں اور دونوں برادر اسلامی ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں، حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور رابطوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی فضا قائم کرنے کے لیے پاکستان نے نہایت اہم کردار ادا کیا، پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے اور یہی پالیسی مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔
انہوں نےانڈیا کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض عناصر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثرورسوخ اور عالمی سطح پر مثبت کردار سے خوش نہیں ہیں، تاہم پاکستان اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اگر پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے عالمی اور علاقائی سطح پر امن کے قیام کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، انہیں مسلم دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، امتِ مسلمہ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مؤثر اسلامی ملک کے طور پر دیکھتی ہے جو مختلف تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے خلیجی خطے کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کی حمایت کی ہے، پاکستان کے سفارتی رابطوں اور تعمیری کوششوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں معاونت فراہم کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران یورینیئم باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی کی سطح کم کرےگا: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
خواجہ آصف نے افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحدوں پر امن اور استحکام چاہتا ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے موجود ہیں اور دونوں ممالک کو برادرانہ تعلقات کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، انہیں تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولیات فراہم کیں اور مشکل حالات میں ان کا ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تاریخی حقائق کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے اور دونوں ممالک کو مستقبل میں بہتر تعلقات کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں کامیاب رہی ہے، عالمی برادری پاکستان کے تعمیری کردار، امن پسندی اور علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تسلیم کر رہی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان ترقی، امن اور خوشحالی کے ایجنڈے پر کاربند ہے اور ملک کی قیادت اسی وژن کے تحت خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر مؤثر سفارتی روابط کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔






