امریکی میڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے ایران سے متعلق اہم سفارتی معاملات میں معاونت فراہم کی اور حالات کو بہتر سمت میں لے جانے کے لیے مفید کردار ادا کیا، پاکستانی رہنما خطے کی پیچیدہ صورتحال، ایران کی قیادت اور وہاں کے عوامی مزاج سے اچھی طرح آگاہ ہیں، جس کے باعث ان کی آرا اور تجاویز کو اہمیت دی گئی۔
صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط اور باوقار شخصیت کے مالک ہیں۔، فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے وزیراعظم کا مکمل احترام کرتے ہیں اور ریاستی امور میں ادارہ جاتی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جو کسی بھی ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی مثبت امر ہے۔
امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار رہنما ہیں اور خطے کے معاملات کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان تعاون اور باہمی اعتماد ملک کے مفاد میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب دریں اثنا امریکی ریاست میری لینڈ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق سفارتی پیش رفت میں چین نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور ایران کے درمیان گہرے اقتصادی روابط موجود ہیں اور بیجنگ خطے کے معاملات پر اثر و رسوخ رکھتا ہے، جس کے باعث اس کی کوششیں اہم ثابت ہوئیں۔
ٹرمپ نے بتایا کہ چین ایران سے اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مسلسل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں بڑی طاقتوں کے درمیان رابطے اور تعاون نہایت ضروری ہیں تاکہ بین الاقوامی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
امریکی صدر نے اعلان کیا کہ چینی صدر ستمبر میں امریکا کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی سلامتی اور عالمی سیاسی صورتحال سمیت متعدد اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
U.S. President Donald Trump:
— Open Source Intel (@Osint613) June 19, 2026
"I want to thank China. I asked President Xi not to get involved with Iran. He said he wouldn t, and he didn t. It s very nice."
Contributed by @AZ_Intel_. pic.twitter.com/WftdnCYg5J
انہوں نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات عالمی معیشت اور بین الاقوامی استحکام کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں، اسی لیے دونوں ممالک مسلسل رابطے میں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ وہ رواں سال کسی وقت دوبارہ چین جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ امریکا کے تعلقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط اور دیرینہ نوعیت کے ہیں،امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے کے اہم ممالک خصوصاً پاکستان، چین اور مشرق وسطیٰ کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ سفارتی روابط کو مزید فعال بنانے کا خواہاں ہے، جبکہ ایران سے متعلق معاملات میں بھی مختلف ممالک کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔






