گزشتہ چند روز سے انڈین ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں سکھ برادری کے ایک گوردوارے کو منہدم کر کے اس پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ تاہم مذہبی قائدین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ دھرم شالہ (بیٹھک) قیامِ پاکستان سے قبل جس حالت میں موجود تھی اسی حیثیت میں برقرار ہے، البتہ اس کی ایک خستہ حال دیوار گر گئی تھی، جس کی تعمیرِ نو کا آج باضابطہ آغاز کیا گیا۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر اور پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں مختلف مسلم مکاتبِ فکر اور اقلیتی برادریوں کے قائدین نے فاروق آباد کا دورہ کیا۔
پاکستان میں بین المذاہب رواداری کی عظیم مثال
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) July 4, 2026
فاروق آباد کی دھرم شالہ کی تعمیر نو اور اس کی اصل حالت میں باقی رکھنے کا متفقہ اعلان
سکھ برادری کی دھرم شالہ جس کی دیوار خستہ حالت کی وجہ سے گر گئی تھی
اس کی باہمی تعاون سے تعمیر نو اور اس کی اصل حالت میں باقی رکھنے کا متفقہ… pic.twitter.com/3LrwUEcuHP
وفد میں مولانا زاہد محمود قاسمی، حافظ مقبول احمد، علامہ غلام مصطفیٰ حیدری، مولانا فاروق اعظم، مولانا اسلم صدیقی، مولانا سلمان عصری، مولانا شاہد سعیدی، مسیحی رہنما بشپ کامران، ہندو رہنما پنڈت لال، اور سکھ رہنماؤں سردار پلوندر سنگھ، سردار رنجیت سنگھ گیانی، سردار امر جیت سنگھ، سردار گلاب سنگھ اور سردار جکرن سنگھ سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔
وفد کے ہمراہ انجمن تاجران فاروق آباد کے صدر شیخ شہزاد انجم بھی موجود تھے۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ دھرم شالہ کو اسی اصل حالت میں بحال رکھا جائے گا جس میں وہ دیوار گرنے سے قبل موجود تھی، جب کہ متاثرہ حصے کی تعمیرِ نو کی جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف مذاہب اور مسالک کے قائدین نے کہا کہ پاکستان تمام شہریوں کا مشترکہ وطن ہے اور یہاں غیر مسلم برادری کو وہ حقوق حاصل ہیں جو دنیا کے بہت سے ممالک میں دستیاب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسلمان اپنے غیر مسلم بھائیوں کے حقوق کے محافظ ہیں اور حکومتِ پاکستان ملک میں موجود تمام اقلیتی برادریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ قائدین نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔





