بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ عناصر نہ بلوچ ہیں اور نہ ہی بلوچستان کے نمائندے، بلکہ دہشت گرد ہیں جن کا مقصد پاکستان میں بدامنی پھیلانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ تین دہشت گردانہ واقعات میں وطنِ عزیز کا دفاع کرتے ہوئے 42 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا، جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائیوں میں اب تک 54 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ایف سی، پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا مسلسل تعاقب کیا اور ان کا گھیرا تنگ کر دیا۔ دہشت گرد 6 تاریخ سے زیارت کے پہاڑوں میں موجود تھے اور فورسز مسلسل ان کے تعاقب میں مصروف رہیں، جس دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ جب دہشت گردوں نے دیکھا کہ ان کا گھیرا مکمل طور پر تنگ ہو چکا ہے تو ان بزدل عناصر نے بلوچستان کے 18 بہادر سپوتوں کو شہید کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں اب تک 11 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ منگی چیک پوسٹ پر حملے کے پہلے روز بلوچستان پولیس کے 9 اہلکار شہید ہوئے تھے، جب کہ بعد ازاں مزید 18 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس طرح اس واقعے میں شہداء کی مجموعی تعداد 27 ہو گئی، جب کہ اس کارروائی میں مجموعی طور پر 26 دہشت گرد مارے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ خاران کے علاقے میں بھی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف ایک اور آپریشن کیا گیا، جہاں شدید جھڑپ کے دوران پاک فوج کے ایک جونیئر کمیشنڈ افسر (جے سی او) سمیت 11 جوان شہید ہوئے، جب کہ 14 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آج خاران سمیت دو مختلف علاقوں میں کامیاب آپریشن کیے گئے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے مختلف مقامات پر ایک مربوط منصوبہ بندی کے تحت کیے جا رہے ہیں، کیونکہ دہشت گردوں کو پاکستان کی عزت، ترقی اور عوام کے استحکام سے مسئلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کی جان اور شان ہے اور اس کی خوشحالی ایک حقیقت ہے جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ دہشت گردوں کو کوئٹہ کو پانی فراہم کرنے والے منصوبے سمیت ہر اس اقدام سے مسئلہ ہے جو بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ حقیقت بلوچستان کے عوام سے زیادہ بھارت کی حکومت کو پریشان کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ریاستِ پاکستان نے جس عزم اور وضاحت کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، اس سے انہیں اپنی شکست واضح نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست واضح کر چکی ہے کہ یہ عناصر اسلام سے خارج ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ فتنہ الہندوستان ہیں اور ان کا بلوچیت یا بلوچستان سے بھی کوئی تعلق نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ریاستِ پاکستان غیر قانونی افغان باشندوں کو ملک سے نکالنے کے اپنے فیصلے پر بھی قائم ہے، جس پر دہشت گردوں کو اعتراض ہے اور وہ ایسی کارروائیوں کے ذریعے ریاست کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور آج پھر کہتا ہوں کہ آپ صرف اسی کو ڈرا سکتے ہیں جو ڈرنا جانتا ہو۔ اس دنیا میں کوئی مائی کا لال پیدا نہیں ہوا جو ریاستِ پاکستان کو ڈرا سکے۔
دہشت گردی کےحالیہ3واقعات میں اب تک42شہادتیں ہوچکی ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر#ARYNews pic.twitter.com/jDGGKNcnwy
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) July 8, 2026
انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد پاکستان کے بچوں، بہادر پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی فورسز کے جوانوں یا معصوم شہریوں پر حملہ کرتے ہیں تو ریاست خاموش نہیں بیٹھے گی۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہر لمحہ اور ہر جگہ پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیکیورٹی فورسز اور سب سے بڑھ کر پوری پاکستانی قوم مل کر لڑ رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان ہر صورت کامیاب ہوگا، کیونکہ پاکستان حق اور سچائی کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔






