لاہور میں جامعہ علوم مرکز اسلامیہ کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ  علما کرام پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دین کے پیغام کو معاشرے تک پہنچائیں اور سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی شروع کردہ تحریک کو آگے بڑھائیں۔ جماعت اسلامی کا مقصد کسی مصنوعی عظمت کا حصول نہیں بلکہ دین کے مکمل نظام کو ریاست، سیاست اور معاشرت میں نافذ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ جامعہ تمام مشکلات کے باوجود مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔ اساتذہ کرام کی محنت کا اصل اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین انعام کی صورت میں محفوظ ہے۔

انہوں نے دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت بڑے انعام سے نوازا ہے۔ عالم کا مقام بہت بلند ہوتا ہے، مگر علم حاصل کرنے کے بعد کبھی یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ سب کچھ حاصل ہو گیا ہے۔ علم کے ساتھ عاجزی، والدین اور اساتذہ کی خدمت لازم ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں، کیونکہ جو علم انہیں حاصل ہوا ہے وہ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔ یہ ادارہ جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام چلتا ہے اور جماعت کا ایک مخصوص مزاج ہے، جس میں ہر کارکن کی اپنی اہمیت ہے۔ جب علما اور کارکن ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں گے تو وہ ایک دوسرے کو عزت دیں گے۔

انہوں نے درس و تدریس کے نظام کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حق کا علم حاصل کرنے کے لیے باطل کے نظریات کو جاننا بھی ضروری ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ باطل کیا چاہتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ اپنے دور کے تمام طریقوں اور نظاموں سے واقف تھے، ہمیں بھی اپنے دور کے حالات اور نظام کو سمجھنا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کو پڑھنے سے قرآن پاک کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ دنیاوی زندگی عارضی ہے، جب کہ اصل اور دائمی زندگی موت کے بعد ہے، اس لیے پوری زندگی اللہ کی اطاعت میں گزارنی چاہیے۔

انہوں نے عالمی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا موجودہ نظام ظلم پر قائم ہے، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول رائج ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نظریں ان ممالک پر ہیں جہاں تیل کے ذخائر موجود ہیں اور وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے ساتھ ہونے والا واقعہ اس کی واضح مثال ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ جب بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آیا تو نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے اور حالات کے پیش نظر انہیں ملک سے باہر منتقل کیا گیا۔ جب جائز طریقے سے لوگوں کو حقوق نہیں دیے جاتے تو ناجائز راستے اختیار کیے جاتے ہیں، جس سے انتشار جنم لیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مقامی سطح پر عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں قوانین میں بار بار ترامیم کر کے عوامی حق سلب کیا جاتا ہے۔ دنیا میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں، لیکن پاکستان میں لیویز ختم نہیں کی جا رہیں، جس سے عوام پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جب جائز طریقے سے رزق کمانا مشکل ہو جائے تو یہ نظام کی خرابی کی نشانی ہے۔ انہوں نے عوام کو شعور دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔