یہ اعلان انہوں نے چین اور ترکیہ میں جدید پولیسنگ کے تربیتی کورسز مکمل کرکے وطن واپس آنے والے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ مجوزہ لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر میں حراست، تفتیش اور فوری عدالتی کارروائی کی سہولت ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائے گی، جس سے معمولی نوعیت کے مقدمات کا تیز اور مؤثر تصفیہ ممکن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ چین اور ترکیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کے کامیاب پولیسنگ ماڈلز سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کے پولیس نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، سرویلنس سسٹمز اور ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال سے جرائم کی روک تھام اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ وزارت داخلہ کے ایوی ایشن ونگ میں جدید ڈرونز شامل کیے جائیں گے تاکہ جرائم کی روک تھام، حساس مقامات کی نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی میں خصوصی تفتیشی کمرے قائم کیے جائیں گے، جبکہ جدید پولیسنگ کی ضروریات کے مطابق اسپیشلائزڈ انویسٹی گیشن ٹریننگ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انٹیروگیشن کو ایک باقاعدہ خصوصی مضمون کے طور پر متعارف کرایا جائے گا اور ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہونے والی جدید تفتیشی تکنیکیں بھی تربیت کا حصہ بنائی جائیں گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے لیے آپریشنل ضروریات سے ہم آہنگ نئی یونیفارم بھی متعارف کرائی جائے گی۔
اس موقع پر چین اور ترکیہ سے تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے اے ایس پیز نے غیر ملکی کورسز کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے جدید پولیسنگ، سرویلنس سسٹمز، ٹیکنالوجی، جدید آلات کے استعمال اور امن و امان کے مؤثر انتظام سے متعلق اپنے مشاہدات اور تجاویز وزیر داخلہ کے ساتھ شیئر کیں۔







