مظفرآباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز فارم 47 سے آئے ہیں، یہ جماعت نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی ووٹ کی طاقت سے الیکشن نہیں جیتا اور اب پیپلز پارٹی کے مخالفین کشمیر میں بھی ووٹ چوری کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان سے ایک ایک ووٹ اور ایک ایک سیٹ واپس لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے بعض لوگ بائیکاٹ کی بات کرتے ہیں تو انہیں ایک دو تھپڑ مار کر کہو کہ بائیکاٹ نہیں ہوتا، اپنے حق کے لیے ووٹ ڈالو۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کسی نے بھی پیپلز پارٹی کو اقتدار تحفے میں یا پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر میں انہیں دھاندلی کرنے دی جائے گی، لیکن ہم کشمیری عوام کے ووٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔

 ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی تین نسلوں سے عالمی سطح پر کشمیر کی جدوجہد کر رہی ہے اور کشمیریوں کے جمہوری حقوق کے لیے ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے الیکشن کمیشن سے میرپور میں دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن دھاندلی میں ملوث نہیں تھا تو صاف اور شفاف تحقیقات کرائے اور ری پولنگ کرائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میرپور اور کوٹلی کے عوام کے ساتھ انصاف کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی میدان میں شکست قبول کی جا سکتی ہے، لیکن اگر دھاندلی کے ذریعے میرا مینڈیٹ چوری کیا گیا تو اسے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عوام میں پیپلز پارٹی کے لیے جوش، جذبہ اور محبت نمایاں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان شاء اللہ 2 اگست کو تیر اور کشمیر کی جیت یقینی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے بحران کا حل پیپلز پارٹی کے پاس موجود ہے اور کشمیری عوام کسی سے ڈرتے نہیں، اس لیے ووٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔