مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ ن لیگ آزاد کشمیر میں صاف شفاف انتخابات کرائے، وعدہ ہے وفاقی حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کرنا جانتے ہیں اور اس کا تحفظ کریں گے۔ کشمیر کے مہاجرین کے مسائل ہیں، اگر ان کا ووٹ چوری ہوگا تو ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مستقبل کا فیصلہ کرنے والے اداروں میں کشمیر کی کرسی ہونی چاہیے، کشمیریوں کو تمام حقوق دلوائیں گے، حکومت کشمیر کے مسائل پر ٹروتھ کمیشن بنائے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ میں نے وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ راولاکوٹ میں الیکشن نہیں ہو سکتا، یہاں احتجاج، وہاں احتجاج، چاہتے کیا ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں میرپور اور مظفرآباد میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکن احتجاج کریں؟ ادھر بھی احتجاج ہو، یہاں بھی احتجاج ہو، تب مزہ آئے گا آپ کو؟ الیکشن کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہیے، بلٹ سے نہیں۔ ووٹ کی چوری کو کسی صورت نہ چھپایا جائے۔ حقِ حاکمیت کا مطلب ہے جس کے حق میں ووٹ ڈالا جائے، اسی کا ووٹ نکلے۔ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام کریں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی حقیقی نمائندگی محفوظ رہنی چاہیے۔ کشمیری مہاجرین ہمارے وجود، تاریخ اور تحریک کا حصہ ہیں۔ ہم نے میرپور اور مظفرآباد میں انٹرنیٹ کھلوایا ہے، پونچھ میں بھی انٹرنیٹ کھلوائیں گے۔ ن لیگ کے دوست کہتے ہیں کہ وہ کشمیر کو بسیں دیں گے، اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  لاہور میں جو آپ نے کام کیا ہے، وہ تو ماشاء اللہ، یہاں کے عوام پوچھیں گے کہ آپ نے مظفرآباد میں کیا کیا؟ مظفرآباد کے عوام تو آپ کو جانتے ہیں، سی ایم ایچ فلائی اوور کی کہانی معلوم ہے نا؟ یہ جو کراچی کے یونیورسٹی روڈ کا ذکر کرتے ہیں، ان کو بتائیں ن لیگ نے 2020 میں 200 فٹ کے پل کا آغاز کیا تھا، کیا وہ آج تک مکمل ہوا؟

بلاول کا کہنا تھا کہ ن لیگ والوں نے اس الیکشن کو زندگی اور موت کا سوال بنا دیا ہے۔ سوچ رہے ہیں کہ آزاد کشمیر میں شکست کا مطلب وفاق میں حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہونا ہے۔ میرا وعدہ ہے، آزاد کشمیر میں صاف اور شفاف انتخابات کروائیں، وفاقی حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ 

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرا مینڈیٹ چوری کیا تو میں آپ کے تخت کے لیے آؤں گا۔ ہم پیپلز پارٹی والے ہیں، پی ٹی آئی کے ممی ڈیڈی والے نہیں ہیں۔ ہمارے پاس جیالے ہیں جنہوں نے ضیاء الحق اور مشرف کا مقابلہ کیا اور شیر کے شکار کے ماہر ہو چکے ہیں۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ کو یہ دھاندلی کرنے دیں گے۔ انصاف کریں تو آپ کے ساتھ بھی انصاف کریں گے، دھاندلی کریں گے تو آپ کی خیر نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ سیاست کرنا شروع کریں اور بائیکاٹ کی سیاست چھوڑیں۔ پی ٹی آئی والے الیکشن، پارلیمنٹ، کمیٹیوں، اپنے کام اور جدوجہد سے بائیکاٹ کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی والوں کو بائیکاٹ ہی کرنا تھا تو گھر ہی بیٹھ جاتے۔ پی ٹی آئی والے بائیکاٹ نہیں، الیکشن لڑیں۔

 بلاول کا کہنا تھا کہ میں اپنا ہاتھ پی ٹی آئی کے سنجیدہ سیاست دانوں کی طرف بڑھا رہا ہوں۔ ہم وہ سیاسی جماعت ہیں جو الیکشن میں دھاندلی سے تنگ آ چکی ہے۔ ہر وہ سیاسی کارکن جو اپنا فیصلہ خود کرنا چاہتا ہے، آئے، میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھامے۔