ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ عبدالقیوم خان جمعرات کو اپنے ہزاروں حامیوں اور ساتھیوں کے ہمراہ باضابطہ طور پر آئی پی پی میں شامل ہوں گے۔ وہ آئندہ آزاد کشمیر انتخابات میں حلقہ کھاوڑہ سے استحکام پاکستان پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے۔
ذرائع کے مطابق راجہ عبدالقیوم خان نے آئندہ انتخابات کے لیے حلقہ کھاوڑہ سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے لیے درخواست دی تھی، تاہم پارٹی قیادت نے حال ہی میں مسلم کانفرنس چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہونے والے ثاقب مجید راجہ کو امیدوار نامزد کر دیا۔
ٹکٹوں کی تقسیم اور سینئر قیادت کو نظر انداز کیے جانے پر راجہ عبدالقیوم خان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا، جس کے بعد انہوں نے نئی سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
راجہ عبدالقیوم خان آزاد کشمیر کی سیاست کے تجربہ کار رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ چار مرتبہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں، جب کہ سابق سینئر وزیر اور قائم مقام وزیراعظم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں اہم سیاسی پیش رفت
— 24 News HD (@24NewsHD) July 1, 2026
کوٹلی سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے امیدواران اسمبلی کا استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان
ایل اے 8 سے ملک ذوالفقار علی اور ایل اے 10 سے ملک محمد یوسف کی عبدالعلیم خان سے ملاقات
صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان کا استحکام… pic.twitter.com/CkGqZxMISD
2016 کے انتخابات میں انہوں نے حلقہ کھاوڑہ سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر 26 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی تھی۔
دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی نے کوٹلی میں بھی اپنی سیاسی قوت میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایل اے 8 کے امیدوار ملک ذوالفقار علی اور مسلم لیگ (ن) کے ایل اے 10 کے امیدوار ملک محمد یوسف نے پارٹی صدر عبدالعلیم خان سے ملاقات کے بعد آئی پی پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
اس موقع پر عبدالعلیم خان نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر میں بہتر طرز حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں، جدید انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ پارٹی آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے متبادل سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔
خیال رہے کہ انتخابات سے قبل مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی وفاداریاں تبدیل ہونے کا سلسلہ آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست کو مزید دلچسپ بنا رہا ہے۔
اگر راجہ عبدالقیوم خان کی آئی پی پی میں شمولیت باضابطہ طور پر سامنے آتی ہے تو یہ مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک اہم سیاسی نقصان اور استحکام پاکستان پارٹی کے لیے آزاد کشمیر میں ایک بڑی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔





