آزاد جموں و کشمیر میں پارٹی رہنماؤں اور امیدواروں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کا فیصلہ افسوسناک ہے، کیونکہ جمہوری نظام میں اختلافات کا اظہار انتخابی اور آئینی فورمز کے ذریعے کیا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی عمل سے الگ ہو کر۔

انہوں نے تجویز دی کہ انتخابات کے انعقاد کے بعد ایک جامع آئینی اور سیاسی فورم قائم کیا جائے، جہاں تمام سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز ایک میز پر بیٹھ کر آزاد کشمیر کے عوام سے متعلق اہم معاملات پر مشاورت کریں اور مشترکہ فیصلے کریں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت نے احتجاج کرنے والے گروپوں کے مطالبات بڑی حد تک تسلیم کیے اور ان پر عملدرآمد بھی کیا، اس کے باوجود احتجاج کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا، احتجاج ہر مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتا، اس لیے اب تمام فریقوں کو مذاکرات اور سیاسی مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کے حصول کے لیے جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کرنا ہی مؤثر اور پائیدار راستہ ہے،  آزاد جموں و کشمیر میں ایسی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے جو معاشرے میں تقسیم، تصادم یا نفرت کو فروغ دے، آزاد کشمیر میں ایم کیو ایم اور بانی ایم کیو ایم سے منسوب طرزِ سیاست نہیں دیکھنا چاہتے۔

انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں اور مثبت انداز میں انتخابی سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں۔

مزید پڑھیں: 38 سال اقتدار میں رہنے والوں نے کراچی کے عوام کو اُلو بنایا، مرتضیٰ وہاب

اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات تک خطے میں موجود رہیں گے اور پارٹی امیدواروں کی انتخابی مہم کی خود نگرانی کریں گے تاکہ عوام تک پارٹی کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کشمیر کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا اور کشمیر کاز کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی مشاورت کی گئی۔