خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں جماعتِ اسلامی کے وفد نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ملاقات میں آزاد کشمیر میں جاری کشیدہ صورتحال، عوام کو درپیش مشکلات اور امن و امان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ آزاد کشمیر میں لاک ڈاؤن جیسی صورتحال ہے، اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قلت پیدا ہو رہی ہے جبکہ حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت الزام تراشی کے بجائے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔ ان کے بقول کشمیر کا مسئلہ قومی اہمیت کا حامل ہے اور موجودہ کشیدگی سے اس مقصد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے بتایا کہ جماعتِ اسلامی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جبکہ حکومت، وزیراعظم، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ فریقین سے بھی بات چیت کی جائے گی تاکہ مذاکرات کے ذریعے بحران کا حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان، حکومتِ پنجاب اور حکومتِ آزاد جموں و کشمیر سے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ ریاست عوام سے بنتی ہے، اس لیے حکومت کو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، جبکہ عوام اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھی تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری، مزید 22 ایرانی ملاحوں کی وطن واپسی کے لیے سہولت فراہم کردی
انہوں نے کشمیر کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کسی حکومت، سیاسی جماعت یا ادارے سے اختلاف ہے تو اس کا مطلب پاکستان یا پاکستانی عوام سے اختلاف نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ پوراپاکستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعتِ اسلامی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور آزاد کشمیر میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔






