یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر حالیہ مہینوں میں احتجاج، جھڑپوں اور سیاسی بے یقینی کے باعث ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔
انتخابات کب اور کہاں ہوں گے؟
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں پولنگ ہوگی، 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور 12 مہاجرین کی نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، جب کہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تین مرحلوں میں انتخابات کرانے کا مقصد سکیورٹی، انتظامی امور اور شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانا ہے۔
فوج کی نگرانی میں انتخابات کیوں؟
الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ انتخابات پاک فوج کی نگرانی میں منعقد ہوں گے تاکہ ووٹنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں، خصوصاً راولاکوٹ میں شدید احتجاج اور پرتشدد جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔
حالیہ بحران کیا تھا؟
حال ہی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے مختلف آئینی، انتظامی اور عوامی مطالبات کے حق میں احتجاج کیا گیا، جس کے دوران راولاکوٹ میں دھرنے کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے۔
آزاد کشمیر پولیس کے مطابق مظاہرین کی فائرنگ سے چار پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جب کہ پولیس کارروائی میں تین مظاہرین جان سے گئے۔
دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور شیلنگ کے بعد فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سات افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔
انتخابات سے قبل ایڈوانس پولنگ
الیکشن کمیشن نے انتخابی ڈیوٹی پر تعینات سرکاری ملازمین کے لیے ایڈوانس پولنگ بھی کرائی، جو آٹھ اضلاع میں پرامن انداز میں مکمل ہوئی۔
الیکشن حکام کے مطابق بیشتر اضلاع میں 80 فیصد سے زائد ووٹر ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ راولاکوٹ اور سدھنوتی میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پولنگ مؤخر کر دی گئی۔
45 نشستوں کے لیے سخت مقابلہ
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 45 جنرل نشستوں پر سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
حکمران پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے، جب کہ قومی سطح کی قیادت بھی انتخابی جلسوں میں حصہ لے رہی ہے۔
مہاجرین کی نشستیں کیوں متنازع ہیں؟
آزاد کشمیر اسمبلی کی مجموعی 53 نشستوں میں 12 نشستیں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص ہیں، جو 1947 اور 1965 میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی سمیت مختلف حلقے ان نشستوں کی موجودہ تقسیم اور نمائندگی کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھاتے رہے ہیں اور ان میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے عام انتخابات 3 مراحل میں کرانے کا فیصلہ#ARYNews #BreakingNews pic.twitter.com/PUQqZ38UxG
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) July 21, 2026
حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان کیا معاہدہ ہوا؟
گزشتہ برس ہونے والے احتجاج کے بعد حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس میں 12 بنیادی اور 13 اضافی نکات پر اتفاق کیا گیا۔
معاہدے کے تحت مہاجرین کی مخصوص نشستوں سمیت دیگر آئینی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔
آگے کیا ہوگا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق تین مرحلوں میں انتخابات کرانے اور فوج کی نگرانی کا مقصد انتخابی عمل کو پرامن اور شفاف بنانا ہے، تاہم حالیہ احتجاج، سیاسی کشیدگی اور متنازع آئینی مطالبات کے باعث یہ انتخابات آزاد کشمیر کی حالیہ تاریخ کے حساس ترین انتخابات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ انتخابی نتائج نہ صرف آزاد کشمیر کی آئندہ حکومت کا تعین کریں گے بلکہ خطے کی سیاسی سمت پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔







