پہلے مرحلے میں میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 انتخابی حلقوں میں 14 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ خواتین ووٹرز کی بھی بڑی تعداد نے ووٹ کاسٹ کیے، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، استحکامِ پاکستان پارٹی، آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں سمیت مجموعی طور پر 296 امیدوار میدان میں تھے۔

میرپور ڈویژن میں مجموعی طور پر 2 ہزار 454 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں ضلع میرپور کے 4 حلقوں کے لیے 597، ضلع کوٹلی کے 6 حلقوں کے لیے ایک ہزار 107 اور ضلع بھمبر کے 3 حلقوں کے لیے 608 پولنگ اسٹیشن شامل تھے۔

پولنگ کے دوران ضلع بھمبر میں دربار بابا شادی شہید کے پولنگ اسٹیشن پر ہنگامہ آرائی کے دوران شرپسندوں نے ایک بیلٹ باکس چھین کر اسے آگ لگا دی۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر (ڈی آر او) کے مطابق جلائے گئے بیلٹ باکس میں 232 ووٹ موجود تھے۔

حکام کے مطابق دربار بابا شادی شہید کے ایک پولنگ اسٹیشن کے علاوہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر صورتحال معمول کے مطابق رہی۔ اس پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ پولنگ ہوگی یا نہیں، اس بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

آئی جی پولیس آزاد کشمیر لیاقت علی ملک نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو پولیس فوری کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں سمیت کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

چیف سیکریٹری آزاد جموں و کشمیر خوشحال خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے انتشار پھیلانے والے عناصر کو مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ریاستی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں، جبکہ انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے یا امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت میرپور ڈویژن کے تین اضلاع میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا تھا، جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا۔

پہلے مرحلے میں ضلع میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے مجموعی طور پر 13 انتخابی حلقوں میں مقابلہ ہوا، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی، جبکہ آزاد امیدوار بھی بھرپور انداز میں انتخابی میدان میں موجود تھے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ان 13 حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 14 لاکھ ایک ہزار 439 تھی، جن میں 7 لاکھ 25 ہزار 118 مرد اور 6 لاکھ 75 ہزار 628 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے پولیس، سول آرمڈ فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پولنگ اسٹیشنز اور ان کے اطراف تعینات رہے، جب کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر اضافی سکیورٹی انتظامات بھی کیے گئے تھے۔

چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا تھا کہ انتخابی ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے اور ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے، بدامنی پھیلانے یا انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔