جیو نیوز کے پروگرام "جرگہ" میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ یہ مسئلہ صرف ایک فریق کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاستی اور سیاسی نظام کی مجموعی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق عوام کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہونے اور حقیقی سیاسی نمائندگی نہ ملنے کے باعث عوامی ردعمل سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومتیں عوام کی خواہش کے بجائے اسلام آباد کی مرضی سے بنتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اپوزیشن اپنا کردار ادا نہ کرے تو عوام خود احتجاج اور مطالبات کے لیے میدان میں آ جاتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران دونوں جانب جانی نقصان ہوا، جو نہ پاکستان، نہ کشمیر اور نہ ہی آزاد جموں و کشمیر کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ الزام تراشی کے بجائے تمام متعلقہ فریق اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔

امیر جماعتِ اسلامی نے بتایا کہ ان کی جماعت نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں، اپوزیشن رہنماؤں اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے سابق سرکاری افسران، دانشوروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں تاکہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے موجودہ مذاکراتی عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ منطقی انجام تک پہنچے گا۔

انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ ان کے بقول اگر جماعتِ اسلامی کی مؤثر نمائندگی اسمبلی میں موجود ہوتی تو موجودہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعتِ اسلامی نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی ہے اور 2005 کے زلزلے سمیت ہر مشکل وقت میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔

مہاجرینِ کشمیر کی نشستوں کے بارے میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ان کی نمائندگی ختم نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کشمیر کاز کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق نشستوں کی تقسیم اور انتخابی طریقہ کار پر مکالمہ ہونا چاہیے تاکہ تمام فریقوں کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کے ایک بیان پر ردعمل دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کشمیر جیسے حساس معاملے پر غیر محتاط بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ ایسے بیانات کشمیری عوام کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔

ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد مسلسل کمزور ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں سیاسی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2024 کے عام انتخابات سمیت مختلف انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچا ہے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے پہلے اندرونی کمزوریوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے عوام کو عزت، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کیے بغیر صرف فوجی کارروائیوں سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سیاسی قیادت، قبائلی عمائدین، دانشوروں، سابق سرکاری افسران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مکالمہ کرے۔

افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی کا حل بھی مذاکرات میں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ علما، قطر، سعودی عرب، ترکی، چین اور دیگر متعلقہ ممالک کو بھی مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے، جبکہ پاکستانی حکومت پر بھی زور دیا کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں پر نظرثانی کی جائے اور پٹرول کی قیمت تقریباً 225 روپے فی لیٹر پر مستحکم رکھی جائے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور معیشت کو سہارا ملے۔