دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے روایتی گروپ فوٹو سیشن میں شرکت کی، جس کے بعد اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ اجلاس میں ایس سی او کے رکن ممالک کے اعلیٰ سفارتی نمائندے شریک ہیں، جو خطے کو درپیش سیکیورٹی اور معاشی چیلنجز سمیت مختلف اہم موضوعات پر اپنے اپنے مؤقف پیش کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں علاقائی امن و استحکام، دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، سرحد پار تعاون، اقتصادی شراکت داری، تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، توانائی، ڈیجیٹل رابطوں اور علاقائی کنیکٹیویٹی کے فروغ پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں تنظیم کے آئندہ سربراہان مملکت کے اجلاس کی تیاریوں، مشترکہ اعلامیے کے مختلف نکات اور مستقبل کے تعاون کے روڈ میپ پر بھی مشاورت کی جائے گی تاکہ رکن ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر ایس سی او کے مختلف رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی صورتحال، تجارتی روابط، سرمایہ کاری، توانائی، باہمی تعاون اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اجلاس میں علاقائی امن، باہمی احترام، خودمختاری، اقتصادی تعاون اور رابطوں کے فروغ سے متعلق اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرے گا، جبکہ خطے میں پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف کی محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو؛ سعودی تیل بردار جہازوں پر حوثی حملے عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں 

پاکستان کا مؤقف ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں امن، استحکام، اقتصادی ترقی اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے ایک مؤثر اور اہم پلیٹ فارم ہے۔ پاکستان تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، مشترکہ اقتصادی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کی اہم علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے، جس کے رکن ممالک عالمی آبادی، تجارت اور معیشت کا بڑا حصہ رکھتے ہیں، جبکہ تنظیم خطے میں سیکیورٹی، اقتصادی تعاون اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔