ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد وہ اس پیش رفت پر بے حد خوش ہیں اور ایرانی صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔
وزیرِاعظم نے ایران میں حالیہ واقعات میں ہزاروں افراد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور ایرانی سپریم لیڈر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور خوشحالی کے لیے
خطے میں اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، اور پاکستان اس پورے عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق پاکستان اس بات کا خواہاں ہے کہ تمام فریقین ایک جامع اور پائیدار معاہدے تک پہنچیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے اور ایران ایک بڑی معیشت بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیرِاعظم نے امن کی کوششوں میں کردار ادا کرنے والے دوست ممالک کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیرِاعظم نے اس عمل میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ مذاکراتی عمل میں ان کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔
انہوں نے ایران کے میزائل پروگرام کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں توازن اور مساوات ضروری ہے اور کسی ایک ملک کو ایسی صلاحیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا جو دیگر ممالک کے پاس موجود ہو۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے جہاں نور خان ایئربیس پر صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔ انہیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ پاک فضائیہ کے جے ایف سترہ طیاروں نے فضائی سلامی پیش کی۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بنیاد پر ممکن ہوئے۔ ان کے مطابق ایران اور پاکستان کی دوستی “یک جان دو قالب” کی حیثیت رکھتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان صرف ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایک برادر اور دوست ملک ہے، اور دونوں ممالک کے عوام کی منزل اور مفادات ایک جیسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایران اور پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور ایرانی حکومت اور عوام پاکستان کی حمایت پر شکر گزار ہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور مذاکراتی عمل میں پاکستان نے مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صدرِ پاکستان، وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل سے تعمیری ملاقاتیں ہوئیں۔
اس موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک بڑی کامیابی ہے اور پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار امن معاہدے تک اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔
وزیرِاعظم نے ایران کے میزائل پروگرام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ توازن کا معاملہ ہے اور کسی بھی ملک کو اس صلاحیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا جو دیگر ممالک کے پاس موجود ہو۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر ایک روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے جہاں نور خان ایئربیس پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا تھا۔ بعد ازاں انہیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی ہوا۔۔