عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے ابتدائی طور پر یہ تجویز دی گئی تھی کہ ایران اپنے افزودہ یورینیئم کے ذخائر کسی دوسرے ملک منتقل کرے، تاہم ایرانی مؤقف یہ ہے کہ وہ ذخائر ملک سے باہر بھیجنے کے بجائے افزودگی کی سطح کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام، منجمد مالی اثاثوں اور لبنان سے متعلق معاملات پر تکنیکی سطح کے تین الگ الگ ورکنگ گروپس کام کر رہے ہیں۔ ان گروپس کا مقصد مختلف نکات پر پیش رفت کو یقینی بنانا اور فریقین کے درمیان موجود اختلافات کو کم کرنا ہے تاکہ ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ خطے کے کئی اہم ممالک مذاکراتی عمل کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات سفارتی کوششوں اور ثالثی کے عمل میں معاون کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں مدد مل رہی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا آئندہ مرحلہ نسبتاً پیچیدہ اور سخت ہو سکتا ہے کیونکہ کئی حساس معاملات ابھی زیرِ بحث ہیں، تاہم مجموعی طور پر فریقین ایک ایسے معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں جو قابلِ قبول اور قابلِ حصول ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی رابطے مثبت نتائج دے سکتے ہیں اور خطے میں استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور بحری جہازوں کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاز تقریباً 60 روز تک کسی اضافی ٹیرف کے بغیر اس اہم بحری گزرگاہ سے سفر کر سکیں گے، جبکہ معمول کے نیوی گیشن اور سروس چارجز بدستور لاگو رہیں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور قطر کی کوششوں سے لبنان جنگ کے خاتمہ میں بڑی پیشرفت ہو گئی: عباس عراقچی
نائب وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران یہ بھی بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کی براہِ راست نگرانی کی اور متعدد اہم مراحل میں ذاتی دلچسپی لی۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح پر جاری سفارتی رابطوں نے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر موجودہ پیش رفت برقرار رہی تو فریقین کے درمیان ایک ایسا معاہدہ طے پانے کے امکانات موجود ہیں جو نہ صرف جوہری تنازع کے حل میں مددگار ہوگا بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اقتصادی و سفارتی تعلقات کے فروغ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مجوزہ ڈیل میں ایسا کوئی نکتہ شامل نہیں جو کسی فریق کے لیے نقصان دہ ہو، اور تمام اقدامات باہمی مفادات اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔






