پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بحریہ نے "آپریشن نصر 2" کی 23ویں لہر کے تحت تین مرحلوں میں خطے میں قائم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں انہیں بھاری نقصان پہنچا۔

بیان کے مطابق پہلے اور دوسرے مرحلے میں بحرین کے السخیر ایئرپورٹ پر موجود امریکی یونٹس کے ڈرونز کی دیکھ بھال اور مرمت کی تنصیبات، جبکہ سلمان پورٹ میں امریکی ٹی ایف-59 یونٹ کی تیاری کی سہولیات کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ تیسرے مرحلے میں کویت کے عریفجان فوجی اڈے پر موجود امریکی سپیشل فورسز کے میرینز کی تعیناتی، معاونت اور سازوسامان سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ خطے میں امریکی افواج کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

دوسری جانب بحرین کی وزارتِ داخلہ نے ملک میں سائرن بجائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں شہریوں اور رہائشیوں سے پرسکون رہنے اور فوری طور پر قریبی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ وزارت نے عوام کو حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

ادھر کویت کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ شروع کر دیا ہے۔

کویت کی فوج کے جنرل اسٹاف نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اگر شہری دھماکوں کی آوازیں سنیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا حصہ ہیں۔

فوج نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ تمام حفاظتی اور سکیورٹی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔