راولا کوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے انتخابات کی کال پر بھرپور لبیک کہا، جب کہ راولا کوٹ میں چھ لاکھ ووٹ کاسٹ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران سیاسی جماعتوں نے بڑے بڑے جلسے، کارنر میٹنگز اور انتخابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا، جس سے الیکشن کے تمام تقاضے پورے ہوتے نظر آئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے انتخابی عمل میں بھرپور سیاسی سرگرمیوں کا مظاہرہ کیا، تاہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو پرامن اور شفاف انتخابات ہضم نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ آج آزاد کشمیر حکومت کے ترجمان اور انتظامیہ کی پریس کانفرنس میں اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ایک پرتشدد جتھے کو کشمیر کی ترقی، امن اور پاکستان کے ساتھ کشمیر کا اٹوٹ رشتہ قبول نہیں، اسی لیے اس جتھے نے خطے کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام نے ان کی پرتشدد کارروائیوں کو مسترد کرتے ہوئے جمہوری راستہ اختیار کیا، جو ان عناصر کو قابل قبول نہیں تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ اس پرتشدد جتھے سے ممنوعہ اسلحہ بھی برآمد ہوا اور اس نے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے دن سے کہہ رہی تھی کہ یہ پرامن احتجاج نہیں بلکہ ایک پرتشدد جتھا ہے، جو بیرونی ایجنڈے اور بھارتی فنڈنگ کے تحت اپنی مہم چلا رہا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ایسے عناصر کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی کو بھی امن و امان خراب کرنے یا عوام کی جان و مال کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ انتخابات کے دوران تشدد کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ عوام ایسے عناصر کے عزائم اور ایجنڈے سے بخوبی آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ عناصر کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم حکومت کشمیر کاز کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دے گی، اور ایسے عناصر کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جتھے کی کشمیر مخالف پالیسیاں ناکام ہوں گی۔