ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ایس سی او کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اقتصادی شراکت داری، تجارت کے فروغ، ٹرانسپورٹ روابط، علاقائی رابطہ کاری اور عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے کے لیے اقدامات پر گفتگو کی۔
ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جہاں رکن ممالک مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی مفادات کے حصول کے لیے مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ایس سی او کے سیکریٹری جنرل نورلان یرمیکبایف نے علاقائی امن اور تعاون کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان تنظیم کی سرگرمیوں اور مقاصد کے حصول میں اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے ملاقات میں ایس سی او کے ادارہ جاتی نظام کو مزید مؤثر بنانے، رکن ممالک کے درمیان رابطوں میں اضافے اور تنظیم کی کارکردگی بہتر کرنے سے متعلق اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔
اس موقع پر نورلان یرمیکبایف نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والے ایس سی او کونسل آف فارن منسٹرز کے آئندہ اجلاس کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا۔ اجلاس میں تنظیم کے مستقبل کے اقدامات اور رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے معاملات زیر غور آنے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: مریم نواز کی پرتگالی کمپنیوں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے بنیادی اصولوں اور مقاصد کے حصول کے لیے پرعزم ہے اور تنظیم کے تمام رکن ممالک کے ساتھ قریبی روابط اور تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھالنے سے قبل رکن ممالک کے ساتھ رابطوں کو مزید مضبوط کرے گا تاکہ تنظیم کے پلیٹ فارم کو علاقائی ترقی اور تعاون کے لیے مزید فعال بنایا جاسکے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے بھرپور تیاری کرے گا اور اس موقع کو رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور شراکت داری کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔






