تفصیلات کے مطابق یہ اپیل ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے کینیا یونین آف جرنلسٹس اور کینیا کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر دائر کی تھی، جس میں اپیل کورٹ کے فیصلے کے مختلف پہلوؤں کو چیلنج کیا گیا تھا۔
چیلنج کیے گئے نکات میں ملوث پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دینے سے انکار، خاندان کو دیے گئے ہرجانے میں اضافہ اور حکومت کو عوامی معافی جاری کرنے کی ہدایت شامل تھی۔
واضح رہے کہ ارشد شریف کو 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے کاجیاڈو کاؤنٹی میں سفر کے دوران پولیس نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ جس گاڑی میں وہ سفر کر رہے تھے، اسے مبینہ طور پر ایک کار جیکنگ کے واقعے سے منسلک سمجھا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں کے اس فیصلے کی توثیق کی کہ پولیس کی بلاجواز فائرنگ سے صحافی کے آئینی حقِ زندگی کی خلاف ورزی ہوئی۔ تاہم، عدالت نے اپیل کنندگان کی جانب سے اٹھائے گئے دیگر نکات پر اپیل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا۔
عدالت کے سامنے اہم سوالات میں سے ایک یہ تھا کہ آیا عدالت ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشنز (ڈی پی پی) کو مہلک فائرنگ میں ملوث پولیس افسران کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا حکم دے سکتی ہے یا نہیں۔
سپریم کورٹ نے اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہوئے قرار دیا کہ آئین واضح طور پر ڈی پی پی کو اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی مقدمے میں قانونی کارروائی کے آغاز سے متعلق آزادانہ فیصلہ کرے اور اس عمل میں اسے کسی ہدایت یا دباؤ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
ججوں نے کہا کہ اگرچہ عدالتیں ایسے معاملات میں مداخلت کر سکتی ہیں جہاں ڈی پی پی اپنے اختیارات کا آئین کے آرٹیکل 157(11) کے برخلاف استعمال کرے، تاہم عدالت اسے عمومی طور پر فوجداری کارروائی شروع کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔
پانچ رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہمارے سامنے موجود معاملے میں یہ عدالت تیسرے فریق، یعنی ڈی پی پی، کو مقتول کی جان لیوا فائرنگ کے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا حکم یا ہدایت نہیں دے سکتی۔
Link to the Judgements, Rulings and Media Summaries delivered by the Supreme Court today 3/7/2026.
— THE SUPREME COURT OF KENYA (@THE_SCOK) July 3, 2026
All our decisions are accessible o our website: https://t.co/8FsEZSZVEB (Currently undergoing re-engineering to serve you better)
Judgement in:
1) SCPT/E030 & E033/2025… pic.twitter.com/9mDCERVtYG
عدالت نے ارشد شریف کی اہلیہ کو ہائی کورٹ کی جانب سے دیے گئے ہرجانے میں 10 ملین شلنگ کے اضافے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔
ججوں نے قرار دیا کہ ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ ٹرائل کورٹ نے ہرجانے کا تعین کرتے وقت غیر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھا یا متعلقہ عوامل کو نظر انداز کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اپیل کنندگان ہمارے سامنے ایسے حقائق پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں جن سے ثابت ہو کہ ٹرائل کورٹ نے ہرجانے کے تعین میں قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ لہٰذا، ہم مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
سپریم کورٹ نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ انڈیپنڈنٹ پولیسنگ اوور سائٹ اتھارٹی نے واقعے کی تحقیقات کر کے اور اپنی رپورٹ ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشنز کے دفتر کو بھجوا کر اپنی قانونی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔
تاہم عدالت نے قرار دیا کہ آئی پی او اے پر لازم ہے کہ وہ ارشد شریف کے اہل خانہ کو تحقیقات کی پیش رفت سے آگاہ رکھے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اپیل کورٹ پہلے ہی اس حوالے سے متعلقہ اتھارٹی کو ہدایات جاری کر چکی ہے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو عوامی معافی نامہ جاری کرنے کا حکم دینے کی درخواست بھی مسترد کر دیا اور اپیل کورٹ کے اس مؤقف کو برقرار رکھا کہ تحقیقات اور استغاثہ کے عمل کے دوران ایسا حکم دینا مناسب نہیں ہوگا۔
آخر میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اپیل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
پانچ رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہمارے سامنے موجود تمام نکات کے جائزے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ اپیل مسترد کی جاتی ہے۔
یہ فیصلہ مقتول تفتیشی صحافی ارشد شریف کی ہلاکت سے متعلق طویل قانونی کارروائی کے ایک اہم مرحلے کا اختتام ہے، جب کہ عدالت نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ان کے آئینی حقِ زندگی کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔





