ارشد خان کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور ان کے اہل خانہ کی شہریت کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، اس کے باوجود انہیں پاسپورٹ کے حصول میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریت کی تصدیق کے بعد انہیں پاسپورٹ جاری کر دیا گیا تھا، تاہم اب اس کی تجدید نہیں کی جا رہی، جس کے باعث انہیں قانونی اور سفری مسائل کا سامنا ہے۔
ان کے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی کے مطابق متعلقہ حکام کو اس معاملے پر خط بھی لکھا گیا، مگر کوئی تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا۔ جس کے بعد عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ درخواست میں وفاقی وزارتِ داخلہ اور ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو فریق بنایا گیا ہے۔ جس طرح عدالتی کارروائی کے بعد ارشد خان کا شناختی کارڈ بحال ہوا، اسی طرح انہیں امید ہے کہ پاسپورٹ کے معاملے میں بھی انصاف ملے گا۔
یہ معاملہ گزشتہ سال اس وقت سامنے آیا تھا جب ارشد خان کی پاکستانی شہریت سے متعلق افواہوں کے بعد نادرا نے ان کا قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد ارشد خان نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور نادرا کا اقدام غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔
درخواست میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ شناختی دستاویزات بلاک ہونے کی وجہ سے انہیں ملک بدری کا خدشہ لاحق ہو گیا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کی مہم جاری تھی۔
بعد ازاں اکتوبر 2025 میں نادرا کے ویری فکیشن بورڈ نے ارشد خان اور ان کے خاندان کی دستاویزات کی جانچ مکمل کرتے ہوئے انہیں درست قرار دیا، جس کے بعد ان کا قومی شناختی کارڈ بحال کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ ارشد خان 2016 میں اسلام آباد کے ایک بازار میں چائے فروخت کرتے ہوئے اس وقت دنیا بھر میں مشہور ہوئے تھے جب ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس وقت وہ 17 برس کے تھے۔ ان کی نیلی آنکھوں اور منفرد شخصیت نے عالمی توجہ حاصل کی، جس کے بعد انہیں ماڈلنگ کی پیشکشیں ملیں اور وہ "ارشد چائے والا" کے نام سے پہچانے جانے لگے۔
بعد ازاں انہوں نے "کیفے چائے والا" کے نام سے اپنا کاروبار شروع کیا، جو پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ لندن تک پھیل چکا ہے۔ اب ان کے پاسپورٹ کی تجدید کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، جہاں وہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ پاکستانی شہریت کی تصدیق کے باوجود انہیں سفری دستاویز سے محروم رکھنا غیر قانونی ہے۔







