سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے بعد آپریشن شعبان کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ہے۔ فورسز مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور سہولت کاروں کے خلاف مربوط کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران جدید انٹیلی جنس معلومات اور زمینی نگرانی کی مدد سے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ حساس علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ 5 جولائی سے اب تک مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 121 خارجی دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جو ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کرنا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آپریشن جاری ہے، جبکہ مقامی آبادی کے تحفظ کو بھی ہر مرحلے پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ فورسز دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں اور فرار کے راستوں پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی دہشت گرد کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔
مزید پرہیں: ’شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن‘ یہ راز تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے، رانا ثنا اللہ
سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رکھا جائے گا، آخری دہشت گرد کے انجام تک پہنچنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔
ذرائع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیکیورٹی فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔






