پشاور میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن کے دوران انتہائی منظم انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے دشمن کو بھرپور جواب دیا، اللہ تعالیٰ کے فضل، عوام کی دعاؤں، افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قومی اتحاد کی بدولت پاکستان نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی، جو آنے والے برسوں تک یاد رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے ہر محاذ پر ثابت کیا کہ ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق دشمن کو اپنی عددی اور عسکری برتری پر ناز تھا، تاہم پاک فوج نے بہترین حکمت عملی، جدید عسکری مہارت اور بروقت فیصلوں کے ذریعے اس کے عزائم خاک میں ملا دیے۔
مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے حالیہ عرصے میں نہ صرف ملکی سلامتی کو یقینی بنایا بلکہ سفارتی سطح پر بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور حکومتی ٹیم نے قومی مفادات کے تحفظ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کی حمایت کی ہے اور یہی پالیسی عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہی ہے، پاکستان کی سفارتی کوششوں نے کشیدگی کم کرنے اور بڑے تصادم کے خطرات کو محدود کرنے میں بھی مثبت کردار ادا کیا۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان پر دہشتگردی کے حوالے سے مختلف الزامات عائد کیے جاتے تھے، مگر آج عالمی سطح پر ملک کی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور آج امن و استحکام کی جانب بڑھتا ہوا ملک دنیا کے سامنے ایک مختلف تصویر پیش کر رہا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں قیامِ پاکستان کی جدوجہد کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کسی ایک جماعت یا طبقے کی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ تمام مکاتبِ فکر، مذہبی رہنماؤں، سیاسی شخصیات اور مختلف طبقات کی مشترکہ قربانیوں سے وجود میں آیا، اہلِ سنت، اہلِ تشیع، اہلِ حدیث، مشائخ عظام، دینی مدارس اور غیر مسلم برادری سمیت سب نے پاکستان کے قیام اور اس کے استحکام میں اپنا کردار ادا کیا۔
مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں غیر مسلم اراکین کی جانب سے پاکستان کے حق میں دیا گیا ووٹ بھی تاریخ کا اہم حصہ ہے، جسے ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کی بنیاد باہمی احترام، رواداری اور مشترکہ جدوجہد پر رکھی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان بھی قومی اتفاقِ رائے کی بہترین مثال ہے، جس کی تیاری میں ملک کے ممتاز علما، آئینی ماہرین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اہم کردار ادا کیا، مولانا اسماعیل سلفی، مفتی جعفر حسین، پروفیسر غفور احمد اور دیگر اکابرین نے آئین کی تشکیل میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور اس کے ہر پہلو پر تفصیلی غور کیا۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے اور مذہبی آزادی سمیت بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے اس پر عمل درآمد ہر شہری اور ہر ادارے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے کروشیا کے وزیر خارجہ کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری اور آئی ٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
انہوں نے دینی مدارس کے حوالے سے کہا کہ ملک میں مختلف دینی تعلیمی بورڈز اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، تاہم مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ادارے کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ دینی مدارس نے ہمیشہ قومی مفاد، اتحادِ امت، امن و استحکام اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ علما اور مدارس نے ہر مشکل وقت میں ریاست کا ساتھ دیا اور آئندہ بھی پاکستان کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی بقا، سلامتی، آئین کی بالادستی اور قومی وحدت کے لیے تمام طبقات کو مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ مضبوط اور متحد پاکستان ہی خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔






