خیبرپختونخوا اسمبلی میں بجٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ تھرو فارورڈ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ خوشحال ہزارہ جیسے منصوبے بھی ایک صدی میں مکمل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے مالیت کی اسکیموں کے لیے صرف ہزاروں یا لاکھوں روپے مختص کیے جا رہے ہیں، جس سے یہ منصوبے اراکین اسمبلی کے لیے گلے کا پھندا بن جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق سے صوبے کے حقوق حاصل نہ کر سکنا ہماری اپنی نااہلی ہے، جب کہ قبائلی اضلاع کا حق بھی وفاق کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو، وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ملک میں ترقی نہ ہونے کی بنیادی وجہ انصاف کی عدم فراہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی ہونے کے باوجود عوام کو قانون کا فائدہ نہیں پہنچ رہا، جو ہماری ناکامی ہے۔
انہوں نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں وہ بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں جو ایک عام قیدی کو ملنے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، اس لیے ان سے ملاقات کے لیے دباؤ بڑھانا ہوگا۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں آٹھ بجٹ بنائے ہیں، نئے لوگوں کو تو گھما پھرا سکتے ہیں لیکن مجھے کوئی نہیں گھما سکتا، مجھے بجٹ کے تمام داؤ پیچ آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاق کے ساتھ مسائل حل کرنے میں صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور اس ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کے بجائے تسلیم کرنی چاہیے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے ہمیشہ صوبے کے حقوق کے لیے وفاق کے سامنے مقدمہ لڑا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق این ایف سی ایوارڈ آبادی کی بنیاد پر ملنا چاہیے، جب کہ قبائلی عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، اس لیے وفاق کو ان کا حق تسلیم کرنا ہوگا۔
سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور صوبائی اسمبلی سے خطاب کررہے ہیں۔
— Khalid Khan Supari (@SupariKhan) June 21, 2026
عمران خان کی رہائی، صوبے کی ترقی، اپوزیشن اور بجٹ کے حوالے سے خطاب۔ pic.twitter.com/liqnTJIYNy
انہوں نے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص محدود فنڈز کی وجہ سے تھرو فارورڈ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کا براہِ راست نقصان عوام کو پہنچتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف تختیاں اور بینرز لگانے سے ترقی نہیں آتی بلکہ منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 200 ارب روپے کے منصوبے کے لیے صرف دو کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں، جب کہ قبائلی اضلاع میں دو ارب روپے کی اسکیم کے لیے بھی صرف دو کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جو ناقابلِ فہم ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں اپوزیشن کے حلقوں کو ترقیاتی فنڈز نہ دینا تحریک انصاف کی غلطی تھی۔ ان کے بقول، پرویز خٹک اور محمود خان کے ادوار میں بھی یہی پالیسی اپنائی گئی، لیکن اب وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اپوزیشن کو فنڈز نہ دینا درست فیصلہ نہیں تھا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صحت کارڈ عمران خان کے وژن کا حصہ تھا، جسے بند کیے جانے کے بعد دوبارہ بحال کیا گیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ صحت کارڈ کے لیے الگ کمپنی قائم کی جائے تاکہ سالانہ سات ارب روپے تک کی بچت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کی 69 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے، لیکن بجٹ میں اس شعبے کے لیے صرف پانچ فیصد حصہ رکھا گیا ہے، جبکہ بعض ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز دوسری مدات میں منتقل کر دیے گئے، جو ایوان کی توہین کے مترادف ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے دو سال کے دوران کوئی قرضہ نہیں لیا، تاہم افسوس ہے کہ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر کبھی متحد نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی دینی ہے تو سیاسی انتقام کا خاتمہ اور قومی مفاد میں اتحاد ناگزیر ہے۔






