لاہور منصورہ میں  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سب سے زیادہ کسانوں کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ زرعی شعبہ براہ راست ایندھن کے اخراجات سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی سے بھی عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا، کیونکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بلند رہتی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج ملک میں بہت سے خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہو چکا ہے، غربت میں اضافہ، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوامی مسائل میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، جبکہ حکومت کو چاہیے کہ معاشی پالیسیوں میں عام آدمی کو مرکز بنایا جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں 40 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ لاکھوں بچے تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں، تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل حل کیے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے پٹرولیم لیوی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام سے بھاری رقوم وصول کر رہی ہے، لیکن اس کے بدلے میں عام شہریوں کو مناسب ریلیف نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں بڑی رقم جمع کی گئی، جس کا بوجھ بالآخر عوام ہی برداشت کرتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے ٹیکس نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اپنے مقرر کردہ اہداف مکمل کرنے میں ناکام رہتا ہے، جس کا دباؤ عام شہریوں پر منتقل کر دیا جاتا ہے،  چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے، موٹر سائیکل سوار، ملازمین اور کم آمدنی والے افراد بھی مختلف ٹیکسوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی،  وکلا، اساتذہ، ڈاکٹرز، طلبہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ 7 اگست کے احتجاج میں شرکت کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی کوشش ہے،  کراچی سے خیبر تک عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے پرامن طریقے سے اپنا مؤقف پیش کریں گے۔

مزید پڑھیں: 7 اگست کو پٹرول قیمتوں کے خلاف احتجاج ہوگا، نوجوان موٹرسائیکلیں سڑکوں پر لائیں: حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقے کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، مہنگے سرکاری اخراجات، بڑی گاڑیوں اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کر کے عوام پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک کے بڑے افسران، بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کو بھی قربانی دینی ہوگی تاکہ عام شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے،  ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کو سب سے پہلے عوامی مشکلات کا احساس کرنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی گالی یا تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ آئینی اور جمہوری طریقے سے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی،  پرامن سیاسی جدوجہد ہی ملک میں بہتری اور عوامی مسائل کے حل کا راستہ ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے حل، مہنگائی میں کمی اور معاشی انصاف کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور عوام کے حقوق کی آواز ہر فورم پر اٹھائی جائے گی۔