تفصیلات کے مطابق جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وہاڑی محمد افضل زاہد کی برطرفی کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کی اپیل منظور کر لی اور محکمانہ کارروائی کے تحت 6 مئی 2013ء کو جاری کیا گیا برطرفی کا فیصلہ بحال کر دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ ایک سرکاری ملازم اور جج کو ایک ہی پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ سرکاری ملازم کی معمولی کوتاہی جبری ریٹائرمنٹ کا باعث بن سکتی ہے، تاہم ایک جج کے لیے دیانت داری، کردار اور ساکھ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ جج کی قانونی صلاحیت کا اندازہ اس کے فیصلوں سے لگایا جاتا ہے، جبکہ اس کی دیانت داری اور کردار کا معیار اس کی شہرت ہوتی ہے۔ اگر کسی جج کی ساکھ داغدار ہو تو اس کے فیصلوں کو بھی عوام شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جس سے قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عوام کا اعتماد کھو دینے والا جج عدلیہ کی نمائندگی نہیں کر سکتا، کیونکہ عدلیہ کا سب سے بڑا سرمایہ عوام کا اعتماد ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جج کے لیے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار ہے، اور اگر کسی جج کی شہرت مشکوک ہو جائے تو اسے مراعات کے ساتھ ریٹائر کرنے کے بجائے برطرف کیا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ عدلیہ کو صرف انصاف فراہم ہی نہیں کرنا بلکہ انصاف پر عوام کا اعتماد بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ بدنام یا خراب شہرت رکھنے والے جج کی موجودگی پورے عدالتی نظام کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے، جبکہ ایسے جج کو عہدے سے ہٹانا عدالتی ادارے کے مفاد میں ہوتا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ کسی جج کے خلاف بدعنوانی ثابت نہ بھی ہو، تب بھی خراب شہرت ایک سنگین معاملہ ہے اور ایسی صورت میں برطرفی قانون اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
فیصلے کے مطابق ایڈیشنل اینڈ سیشن جج محمد افضل زاہد پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے سامنے زیر سماعت مقدمات میں فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے غیر قانونی مراعات حاصل کیں۔ الزامات کی سنگینی کے پیش نظر متعلقہ اتھارٹی نے ان کے طرزِ عمل کی نگرانی کا فیصلہ کیا، جس کے بعد ان کے خلاف بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات پر محکمانہ انکوائری شروع کی گئی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ انکوائری رپورٹ میں جج کی عدلیہ میں خراب شہرت کی نشاندہی کی گئی، جس پر مجاز اتھارٹی نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا۔ بعد ازاں سروس ٹریبونل نے غیر قانونی مراعات لینے کا الزام ثابت نہ ہونے پر برطرفی کو جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا، تاہم جج کی داغدار شہرت کا الزام برقرار رکھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ جب محکمانہ تحقیقات منصفانہ ہوں اور ان کے نتائج شواہد پر مبنی ہوں تو سروس ٹریبونل یا سپریم کورٹ ان میں مداخلت نہیں کرتیں۔ مداخلت صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب نتائج بغیر ثبوت یا بدنیتی پر مبنی ہوں، جبکہ اس مقدمے میں خراب شہرت کا نتیجہ ناقص تحقیقات کا نہیں بلکہ شواہد پر مبنی تھا، اس لیے محکمانہ کارروائی میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔





