حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جس کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ہر لیٹر پیٹرول پر 70 سے 80 روپے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جب کہ لیوی کی مد میں عوام سے ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جنگی صورتحال میں بھی عوام پر بوجھ ڈالا اور ان کے خون پسینے کی کمائی نچوڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں جب لوگوں کے پاس مکان کا کرایہ ادا کرنے کے لیے بھی رقم نہ ہو تو ان پر کیا گزرتی ہوگی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ ٹیکس ہیں، اس لیے حکومت جنگ سے پہلے والی سطح پر پیٹرول کی قیمتیں بحال کرے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے کرایوں اور ٹول ٹیکسوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر کی اہم شاہراہوں پر احتجاجی دھرنے دے گی اور ایمبولینس کے علاوہ کسی گاڑی کو گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کا احتجاج آخری نہیں بلکہ احتجاجی تحریک کا آغاز ہے۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کس چیز کا انتظار ہے کہ عوام خود اپنے فیصلے کریں، جب کہ یہ بھی کہا کہ آپ کو حسینہ واجد کی طرح بھاگنے کے لیے کوئی ہیلی کاپٹر نہیں ملے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حکمران اپنی مہمات چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکمرانوں سے سرکاری طیارے خریدنے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ ہاں خریدا ہےکیا یہ تمہارے باپ کا پیسہ ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب واقعی پڑھا لکھا پنجاب ہے تو پھر ایک کروڑ بچے اسکولوں سے باہر کیوں ہیں۔

انہوں نے آئی پی پیز کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چند سو افراد نے قومی دولت لوٹی اور مختلف حکومتوں نے انہیں سرپرستی فراہم کی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر امیر جماعت اسلامی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاجی تحریک میں بھرپور حصہ لیں، سڑکوں پر نکلیں اور احتجاجاً اپنی موٹر سائیکلوں کے سوئچ آف کر دیں۔