چارسدہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے ملکی سیاسی صورتحال، انتخابی عمل، خارجہ پالیسی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ جنوبی ایشیا اور خطے کے دیگر ممالک کو درپیش کئی مسائل کی جڑ طاقت کی سیاست اور مفادات کا ٹکراؤ ہے، جس کے اثرات عام شہریوں تک پہنچ رہے ہیں۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ماضی میں معاشرے میں مذہبی و سماجی قیادت کا کردار زیادہ مؤثر تھا جس کے باعث معاشرتی ہم آہنگی برقرار رہتی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مختلف عوامل نے معاشرے میں تقسیم اور انتشار کو بڑھایا، جب بھی فرقہ واریت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی، ان کی جماعت نے اس کے خلاف آواز بلند کی اور قومی یکجہتی کے لیے کردار ادا کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر عام انتخابات کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے اور مختلف حلقوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے، عوامی مینڈیٹ کا احترام جمہوری نظام کی بنیاد ہے اور انتخابی نتائج کے حوالے سے موجود شکوک و شبہات کو دور کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی نظام کو مضبوط بنانا ہے تو عوام کے ووٹ کا احترام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق جمہوری استحکام اسی وقت ممکن ہے جب تمام سیاسی قوتوں کو برابر کے مواقع فراہم کیے جائیں اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا ہے، عوام بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ حکمران طبقے کو عوامی مسائل کے حل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام وقت کی اہم ضرورت ہے، ہم نے قومی مفاد کے معاملات میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا اور ملک کو درپیش اہم چیلنجز کے دوران ریاستی اداروں اور قومی مفادات کی حمایت کی۔
مزید پڑھیں: بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کریں گے، حافظ نعیم الرحمان
افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان موجود مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے باہمی اعتماد اور مسلسل رابطوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔
تقریب سے خطاب کے اختتام پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار، شفاف سیاسی عمل اور عوامی فلاح کو ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی تمام مسائل کا دیرپا حل فراہم کر سکتا ہے۔






