دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل معمول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ جلد دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تکنیکی مذاکرات جاری ہیں جو آئندہ ہفتے، شاید پیر یا منگل کو دوبارہ شروع ہوں گے۔ یہ صرف ایک عارضی وقفہ ہے اور مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا وفد بھی ان مذاکرات میں شریک ہے اور جب بات چیت دوبارہ شروع ہوگی تو پاکستانی نمائندے بھی اس عمل کا حصہ رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل ختم نہیں ہوا بلکہ فریقین تکنیکی سطح پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں اور وقفے کے بعد مذاکرات وہیں سے آگے بڑھائے جائیں گے جہاں انہیں روکا گیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور قطر کی جانب سے 22 جون کو جاری مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امریکا اور ایران کے پہلے دور کے مذاکرات میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر جنگ کے خاتمے اور جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق موجودہ تکنیکی مذاکرات کا مقصد مختلف اختلافی معاملات پر پیش رفت، قابلِ عمل حل تلاش کرنا اور مستقبل کے سیاسی فیصلوں کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔
اسی وجہ سے ماہرین اور متعلقہ حکام پر مشتمل وفود کی سطح پر ہونے والی یہ نشستیں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ فعال سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے اور تجارت، تعلیم اور دیگر دوطرفہ امور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حالیہ دورۂ افغانستان کے دوران زیر بحث آئے تھے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ افغانستان کو یقین دہانی کرانا ہوگی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان موجود بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد کا احترام ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات کا حصہ نہیں رہا: وزیراعظم
طاہر اندرابی نے صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی جہاز اور عملے کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کی محفوظ رہائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں پاکستانی سفارت خانے کی تکنیکی ٹیم نے جبوتی کا دورہ کیا ہے جبکہ حکومت نے اس معاملے پر بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان مختلف مقامی تنظیموں اور فلاحی اداروں، بشمول انصر برنی کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ یرغمال پاکستانی عملے کی جلد اور محفوظ رہائی یقینی بنائی جا سکے۔





