راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا سلسلہ طویل عرصے سے معطل ہے اور اس دوران اہلِ خانہ سمیت قریبی افراد کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، انسانی اور قانونی تقاضوں کے مطابق خاندان کے افراد کو ملاقات کا حق ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملاقاتوں پر مسلسل پابندی برقرار رکھی گئی تو اس کے منفی اثرات سامنے آسکتے ہیں، اختلافات کو بڑھانے کے بجائے ایسے اقدامات کیے جانے چاہییں جو سیاسی ماحول میں بہتری اور اعتماد کی فضا پیدا کریں۔
آزاد کشمیر کے انتخابات سے متعلق سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس معاملے پر پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا، انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ وہاں کی مجموعی سیاسی صورتحال اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا مؤقف پہلے بھی واضح رہا ہے کہ وہ کسی ریاست مخالف بیانیے کی حمایت نہیں کرتی، تاہم عوام کے آئینی اور جمہوری مطالبات کی حمایت جاری رکھے گی، سیاسی اختلافات کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے۔
پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک کی موجودگی سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے ایسی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف متحد ہے اور پارٹی قیادت کے فیصلے اجتماعی مشاورت سے کیے جا رہے ہیں، پارٹی کے اندر کسی قسم کی تقسیم یا گروہ بندی کی اطلاعات درست نہیں۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی سے ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات بھی ہوئی، ملاقات میں ان کی بھابھی مہرالنساء مانیکا اور بیٹی مبشرہ شیخ شریک ہوئیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی ایکٹ 2026 کیا ہے اور اس پر تنازع کیوں؟
اطلاعات کے مطابق یہ ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی، جو تقریباً چالیس منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی کی صحت، خیریت اور دیگر خاندانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تاحال جیل انتظامیہ کی جانب سے ملاقاتوں یا دیگر معاملات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ تحریک انصاف مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کیا جائے۔






