امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بدل دو نظام کے عنوان سے افتتاحی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گریٹر اقبال پارک آج چھوٹا پڑ گیا ہے اور پورے پاکستان سے لوگ یہاں پہنچے ہیں، یہی اجتماع اتحاد کی علامت بن گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل عالمی سیشن ہو گا جو پوری امت کے ایک ہونے کا پیغام دے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اللہ کی توفیق کے بغیر یہ کام ممکن نہیں تھا۔ ہزاروں کارکنوں نے شرکا کی خدمت کے لیے دن رات محنت کی ہے اور خواتین کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہر جگہ سہولتوں کے انتظامات واضح نظر آ رہے ہیں اور کوئی جماعت یا حکومت اس قدر بڑا اور منظم اجتماع نہیں کر سکتی۔ آج انسانوں کا منظم سمندر اس جگہ جمع ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم نے اسلام اور جہاد کو چھوڑا تو مغلوب ہو گئے۔ خلافت ملوکیت میں بدل گئی اور ملوکیت میں انتشار پھیلنا شروع ہوا۔ سید مودودی نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس نظام کی اصلاح کی جدوجہد کی اور عوام میں یہ شعور پیدا کیا کہ دین کے بغیر نظام درست نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت، حکومت اور معیشت میں اللہ کے احکام کا اظہار نہیں ہوتا، یہی سب سے بڑا شرک ہے، اور اس کو ختم کر کے دین کا نظام قائم کرنا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پہلے تحریروں سے لوگ تحریک سے جڑتے تھے، پھر اسی کوشش سے یہ تحریک ایک تناور درخت بن گئی۔ یہ اقامت دین کی تحریک ہے، کسی گروہ کا اکٹھ نہیں۔ آج تجدیدِ عہد کا دن ہے اور ہم اسی مقصد کے لیے یہاں جمع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 75 افراد سے شروع ہونے والی جماعت اسلامی نے انقلاب برپا کیا، بعد میں جماعت اسلامی پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کی شکل اختیار کی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو صرف ایک سیاسی جماعت نہ سمجھا جائے جو کسی ایک فرد، خاندان یا اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلتی ہو۔ جماعت اسلامی ایسی جماعت نہیں۔ ہم سیاست ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اللہ اور رسول کے لائے ہوئے نظام کے لیے کرتے ہیں۔ ہم مسلکی گروہ نہیں، فرقہ واریت کے قائل نہیں اور تمام مسالک کا احترام کرتے ہیں۔ جس نے دین کے لیے کبھی کوئی چراغ جلایا وہ ہمارے لیے باعثِ عزت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مذہبی یا مسلکی گروہ نہیں بلکہ ایک دینی تحریک ہیں۔ دیگر مذاہب یا نظام کچھ نہ کچھ ڈیلیور کرتے ہوں گے مگر اسلام مکمل نظامِ حیات پیش کرتا ہے۔ ستائیسویں ترمیم کے تحت استثنیٰ لینے والوں کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب کو قانون کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ یہ انسانیت کی بھلائی کا نظام ہے، ہم نہ مذہبی گروہ ہیں نہ عام سیاسی جماعت، ہم وہ لوگ ہیں جو کشمیر اور غزہ کے مظلوموں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں اور بین الاقوامیت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ دنیا میں اللہ کا نظام قائم ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے۔ سید مودودی نے جماعت اسلامی تقویٰ کی بنیاد پر قائم کی تھی اور ہم اسی طرح اس تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ خلوص موجود ہو تو سب مل کر آگے بڑھتے ہیں۔ عالمی حالات پر بات انٹرنیشنل سیشن میں کی جائے گی۔ دنیا میں بیس فیصد لوگ اسی فیصد عوام پر حکومت کر رہے ہیں، اور انہی بیس فیصد میں سرمایہ دارانہ نظام غالب ہے۔ امریکہ میں کوئی مڈل کلاس انسان سرمایہ کاروں کے بغیر صدر نہیں بن سکتا، یورپ میں بھی یہی صورتحال ہے۔ امریکہ دنیا میں لاکھوں افراد کا قاتل ہے، کبھی اسرائیل کو سپورٹ کر کے نسل کشی کرواتا ہے اور مظلوموں کے حق میں آنے والی قراردادیں ویٹو کر دیتا ہے۔ دنیا کا کوئی نظام ظلم پر نہیں چل سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو نظام ہے، اگر اسے نافذ کریں تو پوری دنیا کی خدمت کر سکتے ہیں۔ پاکستان بڑے خوابوں کے ساتھ قائم ہوا تھا۔ مینار پاکستان کے مقام پر ایک قرارداد منظور ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں یہ ملک وجود میں آیا۔ یہ ملک اللہ کی حاکمیت کے لیے بنا تھا، نہ کہ جرنیلوں، سرمایہ داروں یا جاگیرداروں کی حکمرانی کے لیے۔ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا اور ملک کو اسلامی نظام سے دور رکھا گیا۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس ملک میں عدل اور انصاف قائم کریں گے۔ مجبوروں، مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں سمیت ہر اس فرد کی آواز بنیں گے جس کا حق کھایا جاتا ہے۔ اجتماع کے تیسرے دن آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جس کے بعد یہ تحریک پورے پاکستان میں پھیلے گی۔ ظلم کے نظام کا خاتمہ ہوگا اور عوام کو ان کا حق دینا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر پر کوئی سودے بازی قبول نہیں۔ بھارت سے جنگ ہوئی تو پوری قوم متحد ہوگئی اور ہم نے حکومت کا ساتھ دیا، حالانکہ ہمیں معلوم تھا یہ فارم 47 کی حکومت ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے شکایات کے باوجود ہم نے دشمن کے سامنے حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بھارت کی زبان بولنے لگے تھے مگر جماعت اسلامی نے واضح موقف اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے ٹرمپ کی کال پر جنگ بندی کر دی، حالانکہ بھارت کو مزید نقصان پہنچایا جا سکتا تھا۔ ٹرمپ کی ثالثی کہاں گئی، ٹرمپ کی حمایت کامیابی نہیں دلا سکتی۔ فلسطین کے خلاف ٹرمپ کی قرارداد کا ساتھ دے کر کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں کشمیر کا مقدمہ ہر جگہ لڑنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ فلسطین کی قرارداد بھی مینار پاکستان پر پیش کی گئی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا کوئی بھی اجلاس فلسطین کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تھا۔ آج پاکستان کو پھر وہی کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آپ ملک کو مشرف والے راستے پر ڈال کر مشکلات بڑھا رہے ہیں۔ دہشت گردی میں اضافہ ہوا، بارڈر غیر محفوظ ہوئے۔ آپ افغانستان سے جنگ اور بھارت کے سامنے جھکنا چاہتے ہیں۔ اگر حکمران ایسا کریں گے تو عوام انہیں عبرت کا نشان بنا دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب عوام اٹھتے ہیں تو کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔ کشمیریوں اور فلسطینیوں سے بے وفائی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ہمارا دستور عوام کے حقوق اور یکجہتی کی بات کرتا ہے، اس کے لیے قربانیاں دی گئی ہیں اور جماعت اسلامی کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کا موجودہ نظام انگریزوں کا بنایا ہوا ہے، جس میں عوام کی حق تلفی ہوتی ہے۔ سود کا نظام اللہ اور رسول سے جنگ ہے۔ بچوں کو تعلیم نہیں مل رہی اور طبقاتی نظام پروان چڑھ رہا ہے۔ بیوروکریسی عوام کی خادم کے بجائے حاکم بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے جن لوگوں کو مسلمانوں کا خون بہانے کے عوض نوکریاں دیں، آج وہی حکمراں ہیں۔ جاگیردار چھ ارب اور تنخواہ دار طبقہ ساڑھے چھ سو ارب ٹیکس دیتا ہے۔ یہ ملک مافیاز کے قبضے میں ہے، عوام کو تنگ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ماؤں اور بہنوں کو سہولتیں میسر نہیں، عدالتیں ان کو عزت کے ساتھ حق نہیں دیتیں اور وراثت میں بھی حصہ نہیں ملتا۔ ہم ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں انسان برابر ہوں اور سب کو برابر کے حقوق اور سہولتیں ملیں۔
انہوں نے کہا کہ ظلم کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہونا ہوگا۔ اٹھہتر برس سے اس ملک پر وڈیرے، فوجی اور سول بیوروکریسی کی حکومت رہی ہے۔ قوم کے نوجوان ہماری امید ہیں اور ہم ان کے ساتھ بھی کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بنو قابل پروگرام ابھی شروع ہوا ہے اور نوجوانوں کے لیے مزید اعلانات بھی کیے جائیں گے۔ معاشی حالات مشکل ہیں، کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ بڑے مقاصد کے لیے چلنے والے چھوٹی تکلیفوں سے پریشان نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لوگوں نے حق کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ جب نظام کو چیلنج کیا جاتا ہے تو ہر طرح کے حالات آتے ہیں، مگر مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ اگر عوام تیار ہوں تو کوئی ان کا راستہ نہیں روک سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی معاشرتی اصلاح اور نظام کی تبدیلی کے لیے عوام کی امامت کرے گی۔ ہم سازشوں، مداخلت یا فارم 47 پر نہیں آئیں گے اور ہمیں لانا ممکن بھی نہیں کیونکہ ہمارے ہونے سے لوٹ مار نہیں چل سکتی۔
انہوں نے عوام سے کہا کہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ جماعت اسلامی میں قوم پرستی اور فرقہ پرستی کی کوئی جگہ نہیں۔ ہم بلوچستان، خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب سمیت ہر اس علاقے کی آواز بنیں گے جہاں لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسان پنجاب میں رو رہے ہیں، زراعت تباہ ہو رہی ہے۔ گندم، چینی اور دیگر چیزوں میں کرپشن عام ہے۔ بارہ مہینے بارہ مافیاز کا راج رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کرانا حکومت کی مجبوری ہے، ورنہ ملک ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ پاکستان یہاں بسنے والے ہر فرد کا ہے چاہے وہ گلگت ہو یا آزاد کشمیر۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش آزاد ہونے کے باوجود آج بھارت کے خلاف کھڑا ہے۔ پاکستان کسی مخصوص لیڈر یا ادارے کی ملکیت نہیں، یہ پاکستان ان لوگوں کا ہے جنہوں نے آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان پوری دنیا کی رہنمائی کرے گا اور اس مقصد کے لیے قوم کو متحد ہونا ہوگا۔اجتماع عام کے پہلے روز مشاعرے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جس میں معروف شعرا شرکت کریں گے۔ اجتماع گاہ میں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے افراد کا رش بڑھتا جا رہا ہے اور ماحول جوش و جذبات سے بھرپور ہے۔
لاہور میں جماعت اسلامی کا ملک گیر اجتماع عام جاری ہے اور ہزاروں شرکا کی موجودگی میں تیسرا سیشن بدل دو نظام کے عنوان سے شروع ہو گیا ہے۔ اس سیشن میں سیاست، عدلیہ، معیشت، صحت اور تعلیم کے مختلف پہلوؤں پر ماہرین اپنی آراء پیش کر رہے ہیں۔
سیشن کے دوران ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں باقاعدہ سفارشات مرتب کی جائیں گی جن کا مقصد حکومتی اداروں کو مؤثر اقدامات اور اصلاحات کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ سفارشات ملک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اہم کردار ادا کریں گی۔
مینار پاکستان کے اطراف تین دن کے لیے عارضی خیمہ بستی قائم کر دی گئی ہے جہاں شرکا کے لیے رہائش، طبی امداد، شاپنگ سینٹرز، کڈز زون اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔






