پیر کو قومی اسمبلی میں وقفۂ سوالات کے دوران مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ ہیلپ لائن ون فائیو پر موصول ہونے والی کالز میں سے تقریباً 95 فیصد پر بروقت ردعمل دیا جاتا ہے جس سے کال کرنے والے مطمئن ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ میں کرپشن کے مسئلے کا اعتراف کیا جاتا ہے، تاہم اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن میں ملوث افسران اور دیگر اہلکاروں کو دی جانے والی سزاؤں کی تفصیلات بھی فراہم کر دی جائیں گی۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور کا بلوچستان ضمنی انتخابات میں جمعیت علماء اسلام کے امیدواروں کو تھریٹ الرٹ پر اظہارِ تشویش، اسلام آباد میں ٹریفک مسائل کے حوالے سے سوال۔
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) March 9, 2026
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ و انسدادِ منشیات طلال چودھری کا جواب۔#NASession… pic.twitter.com/IDVkF27elV
رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملکی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر لاہور اور کراچی میں عورت مارچ منسوخ کیا گیا، تاہم اسلام آباد میں بغیر این او سی کے مارچ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس پر کارروائی کرتے ہوئے شرکاء کو حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اسلام آباد میں عورت مارچ کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ بغیر این او سی کے مارچ کرنے کی کوشش کرنے والے شرکاء کو حراست میں لیا گیا تھا جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فرزانہ باری نے خود تسلیم کیا کہ ان کے پاس این او سی موجود نہیں تھا، جب کہ عورت مارچ کے حوالے سے موصول ہونے والی زیادہ تر کالیں مردوں کی جانب سے کی گئیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی سید آغا رفیع اللہ کا اسلام آباد کے ریڈ زون میں طویل ٹریفک جام کے باعث عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے سوال۔
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) March 9, 2026
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ و انسدادِ منشیات طلال چودھری کا جواب۔#NASession @SyedAghaPPP pic.twitter.com/FBgAaQJ7pc
طلال چوہدری نے بتایا کہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے 1815 ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے، جس پر اب تک 9 ہزار 534 شکایات درج ہو چکی ہیں، جن میں سے 2 ہزار 719 پر کارروائی کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریڈ زون میں سکیورٹی خدشات کے باعث بعض اوقات داخلے کے راستے محدود کرنا پڑتے ہیں۔
ان کے بقول موجودہ صورتحال میں افغانستان کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار نہیں، بلکہ کم عمر خودکش بمباروں کا ہتھیار ہے، اسی لیے سکیورٹی کے پیشِ نظر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے شہریوں کو اگر کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو اس پر معذرت خواہ ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شازیہ عطا مری کا عورت مارچ کے شرکاء کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سوال۔
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) March 9, 2026
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا جواب۔#NASession @ShaziaAttaMarri pic.twitter.com/I33gko1xjL
انہوں نے کہا کہ جہاں بھی کرپشن ہوتی ہے وہاں ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کوہستان سکینڈل، 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل اور بی آر ٹی میٹرو سکینڈل میں بھی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ اداروں کے غلط استعمال پر بعض معاملات میں کورٹ مارشل بھی کیا گیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت کو سکیورٹی خطرات لاحق ہیں اور ان پر متعدد حملے بھی ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق جماعت کی دوسری سطح کی قیادت بھی نشانہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ادارے جہاں کسی شخصیت کو خطرات لاحق ہوں، وہاں انہیں بروقت آگاہ کرتے ہیں تاکہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔





