ایف آئی آر کے مطابق لڑکی 2 اگست کو گھر سے لاپتہ ہوئی اور کئی گھنٹوں بعد روتے ہوئے واپس آئی۔ لواحقین کے پوچھنے پر لڑکی نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار اسے موٹر سائیکل پر اپنے ساتھ لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔ 

مقدمہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 (ریپ) اور 155-سی (پولیس اہلکار کا مس کنڈکٹ) شامل ہیں۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن نوید قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ تھانے کے اندر پیش آیا، ملزم اے ایس آئی سے تفتیش جاری ہے اور متاثرہ لڑکی کا میڈیکل معائنہ کروا کر رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ لڑکی نہ ملزم تھی نہ کسی کیس میں مطلوب تھی۔ اسے بلاوجہ تھانے لانا خود ایک مس کنڈکٹ ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعے میں کوئی اور اہلکار ملوث نہیں پایا گیا۔

انتظامی کوتاہی پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے احکامات پر تھانہ غازی آباد کے ایس ایچ او سمیت مجموعی طور پر 78 اہلکار معطل کر دیے گئے، جن میں دو سب انسپکٹرز، آٹھ اے ایس آئیز، محرر اور ڈرائیورز شامل ہیں۔ 

علی زیب دستگیر کو نیا ایس ایچ او تعینات کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ ناقص نگرانی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور احتساب کا عمل تھانے کی سطح سے یقینی بنایا جا رہا ہے۔

پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی نے موقع سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جو تفتیش میں معاون ثابت ہوں گے۔