پاکستان میں پیٹرول کی کھپت میں ایک لیٹر بھی کمی نہیں ہوئی بلکہ مارچ 2025 کے مقابلے میں مارچ 2026 میں پیٹرول کی کھپت میں 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مارچ کے آغاز میں ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لٹر قیمت 280.86 روپے، پٹرول کی فی لٹر قیمت 266.17 روپے تھی جو 55 روپے اضافے کے ساتھ بالترتیب 335.86 روپے سے 321.17 روپے ہوگئی۔
اب دوسرا بڑا اضافہ ہوا ہے جو 137 روپے فی لٹر بنتا ہے۔ پٹرول کی فی لٹر قیمت 458.41 روپے اور ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے ہوگئی ہے۔ یکم مارچ سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 192.24 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 239.49 روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور افغانستان سے موازنہ کیا جائے تو دلچسپ صورتحال ہے، انڈیا میں 95 روپے بھارتی، بنگلہ دیش میں 116 ٹکا، سری لنکا میں 370 سری لنکن روپے اور افغانستان میں 65 افغانی بنتا ہے۔
انڈیا میں دہلی جیسے شہروں میں قیمتیں پاکستان کے تقریباً برابر یا معمولی کم ہیں، تاہم ممبئی جیسے شہروں میں یہ پاکستان سے بھی مہنگا ہے۔ سری لنکا میں معاشی بحران کے باعث قیمتیں ابھی بھی خطے میں بلند ترین سطح پر ہیں۔
بنگلہ دیش اور ویتنام میں ایندھن پر سبسڈی یا بہتر فارن ریزرو مینجمنٹ کی وجہ سے قیمتیں پاکستان کے مقابلے میں 15 سے 20 فیصد تک کم ریکارڈ کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول کی نئی قیمت 458 اور ڈیزل کی 520 روپے فی لیٹر مقرر
سعودی عرب (تقریباً 180 روپے) اور متحدہ عرب امارات (تقریباً 210 روپے) جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں قیمتیں پاکستان سے نمایاں طور پر کم ہیں، کیونکہ وہاں خام مال کی مقامی دستیابی میسر ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کا اثر پورے ایشیا پر پڑا ہے۔ مگر پاکستان کو اس سے زیادہ متاثرہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) اور دیگر ٹیکسزہیں۔
انڈیا جیسے ممالک کے پاس تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں جو انہیں عالمی قیمتوں میں اچانک اضافے سے بچاتے ہیں، جبکہ پاکستان میں ذخائر کی کمی ہے، ذخائر کی کمی کی وجہ سے عالمی قیمتوں کا اثر فوراً عوام تک پہنچتا ہے۔
پاکستان اس وقت جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں، روپے کی قدر میں کمی اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے، سبسڈیز کا خاتمہ پاکستان کے عوام پرپہاڑ بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔






