لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں قائم خصوصی عدالت میں پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے سے متعلق مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما محمود الرشید، عمر چیمہ، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر انہیں 10،10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مذکورہ ملزمان کے خلاف مقدمہ ثابت ہوا۔
دوسری جانب اسی مقدمے میں نامزد سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث انہیں مقدمے سے بری کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ مقدمے کی سماعت کوٹ لکھپت جیل میں قائم خصوصی عدالت میں کی گئی۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے پرتشدد احتجاج، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور حساس تنصیبات پر حملوں کے بعد متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔
ان واقعات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں، جبکہ مختلف عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کا سلسلہ جاری رہا۔ 9 مئی کے واقعات پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں شمار کیے جاتے ہیں، جن پر ملکی سیاست اور عدالتی نظام کی توجہ مرکوز رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ہم اسد قیصر کے گھر آئی ایس آئی افسران کی موجودگی میں بلز کی نوک پلک درست کرتے تھے: خواجہ آصف
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد سزا پانے والے ملزمان کو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا قانونی حق حاصل ہوگا، جہاں وہ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں بھی فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ مقدمات سے متعلق آئندہ قانونی کارروائیوں پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔






