ملتان میں  بنو قابل  پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جاگیرداروں، وڈیروں اور جرنیلوں نے مل کر ایک ایسا نظام قائم کر رکھا ہے جس نے تعلیم کو طبقات میں تقسیم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں 90 فیصد افراد کو پہلے ہی مقابلے سے باہر کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے  بنو قابل  پروگرام کے تحت نوجوانوں کو 100 فیصد مفت تعلیم فراہم کر کے کوئی احسان نہیں کیا، بلکہ اگر ایک فلاحی ادارہ یہ کر سکتا ہے تو حکومت بھی عوام کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: باریک واردات کی ماسٹر مائند پیپلز پارٹی دھاندلی کا رونا رو رہی ہے، قیامت کتنے بجے ہے؟ مریم نواز

حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 11 ہزار اسکول آؤٹ سورس کر دیے گئے ہیں جب کہ کالجز اور بنیادی مراکز صحت بھی نجی شعبے کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ بچے تعلیم سے محروم ہیں مگر حکومت اربوں روپے کے طیارے خریدنے میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں سے پریشان تھے، اب واسا کے بل بھی ان پر مسلط کر دیے گئے ہیں، جب کہ پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے "بھتہ ٹیکس" وصول کیا جا رہا ہے۔باریک واردات کی ماسٹر مائند پیپلز پارٹی دھاندلی کا رونا رو رہی ہے، قیامت کتنے بجے ہے؟ مریم نواز

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں ساڑھے 8 ہزار ارب روپے جمع کر چکی ہے، جب کہ 18 ہزار ارب روپے کے قومی بجٹ میں سے 8 ہزار ارب روپے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایف سی چوکی پر حملے کے بعد نوشکی میں تین روزہ کرفیو نافذ، بلوچستان کا یہ ضلع اتنا حساس کیوں ہے؟

انہوں نے کہا کہ 40 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ جماعت اسلامی گالی اور گولی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور عوام کے جمہوری حقوق کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 7 اگست کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف ملک گیر پرامن احتجاج کیا جائے گا اور نوجوان اپنی موٹرسائیکلوں کے ساتھ سڑکوں پر نکل کر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔