تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کی جانب سے 7 اگست کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان کی زیرِ صدارت جائزہ اجلاس ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 7 اگست کو ملک بھر کی اہم شاہراہوں پر احتجاج ہوگا اور سڑکیں بند کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں لوگ گھروں سے نکلیں اور نوجوان موٹر سائیکلوں کے ذریعے سڑکیں بند کریں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ احتجاج کے دوران صرف ایمبولینسز کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ احتجاج تاریخی ہوگا، جس سے حکمران عوام کو ریلیف دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی پرامن اور جمہوری جدوجہد میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے، حکومت فوری طور پر پیٹرولیم لیوی ختم کرے اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرِ ثانی کرے۔

حافظ نعیم الرحمان نے ہدایت کی کہ احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے ملک بھر میں 20 ہزار کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا جائے، جبکہ انہوں نے تاجروں، وکلا، طلبہ، مزدوروں اور دیگر تمام طبقات سے احتجاج میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال، عوامی مسائل، امن و امان اور دیگر اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران جماعت اسلامی پاکستان کے قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی موجود تھے۔ دونوں رہنماؤں نے ملک کو درپیش چیلنجز، عوام کو درپیش مشکلات اور قومی معاملات پر اپنی آرا کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں سیاسی اختلافات کے باوجود قومی معاملات پر رابطوں اور مشاورت کے عمل کو جاری رکھنے پر بھی بات چیت ہوئی، جبکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔