کوٹلی آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے مقبول جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور ہر نشست پر پارٹی ٹکٹ کے خواہشمند امیدواروں کی بڑی تعداد موجود تھی، جس کے باعث امیدواروں کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ کے یہ سب سے اہم انتخابات ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، جب کہ اس وقت آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے اور وفاق میں بھی اتحادی حکومت موجود ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ہر کشمیری اور پاکستانی پریشان ہے اور انہیں ان تمام خاندانوں کے دکھ کا احساس ہے جنہوں نے حالیہ واقعات میں اپنے پیارے کھوئے۔

انہوں نے بتایا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے انہیں خط موصول ہوا تھا، جس میں حالات کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی۔

انہوں نے تجویز دی کہ ایک ٹروتھ کمیشن قائم کیا جائے جو تمام واقعات کی تحقیقات کرے اور حقائق سامنے لائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہ کرے، احتجاج کرنے والے احتجاج معطل کریں، جب کہ وفاقی حکومت بھی مزید کارروائی سے گریز کرے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ انتخابات شفاف ماحول میں منعقد ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ 27 جولائی کو عوام تیر کے نشان پر مہر لگا کر شیر کا ایسا شکار کریں گے جسے تاریخ یاد رکھے گی۔

بلاول بھٹو نے سوال اٹھایا کہ کیا کشمیری عوام ایسی حکومت چاہتے ہیں جو میرپور اور راولاکوٹ کو بھی کشمیر کا حصہ تسلیم نہیں کرتی؟ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی کے کشمیر سے متعلق بیان پر اپنی پالیسی واضح کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی وفاقی وزیر کشمیر کے کسی علاقے کو کشمیر کا حصہ نہیں سمجھتا تو اسے وزارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری کسی کے غلام نہیں اور کشمیر کا مستقبل فیصل آباد یا کسی اور شہر میں نہیں بلکہ کشمیری عوام اور نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔