اگر ہم امریکہ کی چالوں کو دیکھیں، تو اس سال تین جنوری کو ہونے والا آپریشن ایبسولیوٹ ریزالو اس کی بہترین مثال تھا۔ امریکی فوج نے وینزویلا پر اچانک حملہ کر کے وہاں کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا۔ اس ایک فوری (Easy Win) نے صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کو راتوں رات 42 فیصد سے اٹھا کر 54 فیصد پر پہنچا دیا، کیونکہ امریکی عوام کو بغیر کسی جانی نقصان کے ایک بڑی جیت مل چکی تھی۔ لیکن یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
وینزویلا کی اس آسان فتح کے نشے میں آکر پینٹاگون نے اٹھائیس فروری کو ایران پر بھی حملے شروع کر دیے۔ لیکن اس بار امریکہ کا حساب بالکل غلط نکلا۔ ایران نے سامنے سے روایتی جنگ لڑنے کے بجائے گوریلا اور ڈرون حملوں کا راستہ چنا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ناکہ بندی کر دی، جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ بارہ مئی تک امریکی فوج کو 29 ارب ڈالر کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے بحری بیڑے بے بس ہو کر رہ گئے۔ بالآخر، جون کو ہونے والے اسلام آباد معاہدے نے واشنگٹن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جسے دنیا بھر کے ماہرین امریکہ کی ایک بہت بڑی سفارتی اور عسکری ہار قرار دے رہے ہیں۔
"اب اصل کہانی شروع ہوتی ہے، کیونکہ نومبر 2026 میں امریکہ کے مڈ ٹرم الیکشنز آ رہے ہیں۔ اس وقت صدر ٹرمپ کی پارٹی کی مقبولیت تاریخی گراوٹ کے ساتھ صرف 38 فیصد پر آ چکی ہے، اور ان کے ہاتھ سے پارلیمنٹ کی اکثریت نکلنے کا پورا خطرہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی الیکشن سے پہلے کسی امریکی صدر کی مقبولیت 40 فیصد سے کم ہو، اس کی پارٹی بری طرح ہارتی ہے۔ امریکہ اس وقت ایران یا مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی لمبی جنگ کا خطرہ بالکل نہیں مول لے سکتا۔ چنانچہ، واشنگٹن کے تھنک ٹینکس اس وقت ایک ایسے آسان اور کمزور ہدف کی تلاش میں ہیں، جس کا گھیراؤ کرنا آسان ہو اور جو نومبر سے پہلے پینٹاگون کو ایک پکی کامیابی دلا سکے۔ اور وہ ہدف ہے کیوبا جو اب وائٹ ہاؤس کے ریڈار پر آچکا ہے۔
قسط 2: (کیوبا ہی کیوں؟)
پہلے ہم نے ڈسکس کیا کہ الیکشن جیتنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے دھچکے کے بعد اب ایک نئی اور easy win کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کام کے لیے کیوبا کا ہی انتخاب کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس کی پہلی بڑی وجہ ہے کیوبا کا جغرافیہ۔ کیوبا، امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل سے صرف 90 میل کی دوری پر واقع ہے۔ امریکہ کا دو سو سال پرانا ایک قانون ہے جسے مونو ڈاکٹرائن کہتے ہیں، جس کے تحت امریکہ اس پورے خطے کو (Backyard) سمجھتا ہے اور یہاں کسی دوسرے بلاک کی موجودگی برداشت نہیں کرتا۔ آبنائے فلوریڈا میں امریکی نیوی کا ایک چھوٹا سا بحری بیڑہ بھی پورے کیوبا کا رابطہ دنیا سے کاٹ سکتا ہے۔ پینٹاگون کو یہاں ایران کی طرح اربوں ڈالر خرچ کرنے یا ہزاروں میل طویل سپلائی لائنز بنانے کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ ایک ایسا ہدف ہے جسے صرف بحری اور فضائی طاقت سے ہی مفلوج کیا جا سکتا ہے۔
دوسری اور سب سے اہم وجہ کیوبا کی موجودہ تباہ حال اندرونی صورتحال ہے۔ تاریخی طور پر کیوبا اپنی 60 فیصد توانائی کے لیے وینزویلا سے آنے والے سستے تیل پر چلتا تھا۔ لیکن جنوری میں وینزویلا کے صدر کی بے دخل کے بعد یہ سپلائی لائن ہمیشہ کے لیے تباہ ہو چکی ہے۔ رہی سہی کسر یکم مئی کو صدر ٹرمپ کے نئے صدارتی حکم نامے ایگزیکٹو آرڈر 14404 نے پوری کر دی، جس کے تحت کیوبا پر سخت ترین پابندیاں لگا دی گئیں۔ اس وقت کیوبا میں مہنگائی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور پورے ملک میں روزانہ 12 سے 14 گھنٹے کے بدترین بلیک آؤٹس ہو رہے ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کی معیشت اور سسٹم پہلے ہی زمین بوس ہو چکا ہو، وہ کسی امریکی کارروائی کے خلاف عسکری مزاحمت کر ہی نہیں سکتا۔ ٹرمپ انتظامیہ کو اس وقت اسی کمزوری کی تلاش ہے۔
اس پورے کھیل کی آخری اور سب سے اہم کڑی خالصتاً الیکشن کی سیاست ہے۔ امریکی انتخابات میں فلوریڈا ایک انتہائی اہم ریاست (Swing State) مانی جاتی ہے جو ہار جیت کا فیصلہ کرتی ہے۔ فلوریڈا کے شہر میامی اور اس کے مضافات میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے کیوبن-امریکن ووٹرز آباد ہیں، جو کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کے کٹر مخالف ہیں۔ کیوبا کے خلاف کوئی بھی سخت قدم یا فوجی کارروائی ٹرمپ کو فلوریڈا کے اس بڑے ووٹ بینک کا ہیرو بنا دے گی۔ چنانچہ، نومبر کے معرکے سے پہلے کیوبا پر دباؤ بڑھانا، ایران میں کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے اور مڈ ٹرم الیکشن جیتنے کا سب سے سستا اور کارآمد انتخابی کارڈ ہے۔







