پاکستان میٹرز ’پوڈکاسٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نبیلہ جعفر نے کہا ہے کہ 1949 میں چیئرمین ماؤ نے جب "پیپلز ریپبلک آف چائنا" کی بنیاد رکھی، نئی پالیسیز بنائیں۔ STEM ایجوکیشن کے اوپر انہوں نے بہت زیادہ فوکس کیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ امریکا اور چائنا کو جب ہم دیکھتے ہیں، چائنا جو ہے وہ گیپ کلوز کر رہا ہے بہت جلدی جلدی یو ایس کے ساتھ۔ 2015 میں انہوں نے "میڈ ان چائنا" والی پالیسی بنائی تھی، اس کے اندر انہوں نے کہا تھا کہ ہم اپنی کیپیسٹی بنائیں گے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں۔
وہ پہلے جب ہم کہتے تھے نا کہ چائنا میں ہر چیز بنتی ہے، اب وہ چائنا وہ ہر چیز نہیں بنائے گا، اب وہ لوگ ہائی اینڈ پروڈکشن کی طرف جا رہے ہیں۔ وہ جو لو اینڈ پروڈکشن ہے، وہ شفٹ کر رہے ہیں باقی پارٹنر ممالک میں۔
نبیلہ جعفر نے کہا ہے کہ کوئی کلیکٹو ایفرٹ اس طرح کی ہو سکتی ہے، ظاہر ہے پاکستان اور چائنا کے تعلقات اس طرح کے ہیں۔ China is becoming a new land of opportunities. پہلے یو ایس ہوتا تھا لوگ وہاں جاتے تھے، لیکن اب جیسے ہی اویرنس آئے گی نا، تو لوگ اپنے بچوں کو چائنا بھیجیں گے پڑھنے کے لیے۔ چائنا میں پڑھنا زیادہ اکنامیکل ہے، لوگ افورڈ کر سکتے ہیں، افورڈیبل ہے۔
جو یوتھ ہے، ایک تو ان کا انٹرسٹ پیدا ہو جائے کہ وہ چائنا کے اس ایجوکیشن سے فائدہ اٹھائیں اور پھر وہ پاکستان واپس آ کے اس نالج کو ٹرانسفر کریں یہاں پہ۔
انہوں نے مزید کیا کہا دیکھئے اس ویڈیو میں







