ان کے مطابق اس انقلاب نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاسی سمت بدل دی، کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک اسلامی ملک نے امریکہ کے اثر و رسوخ سے نکل کر اپنی آزاد پالیسی اختیار کی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ایران ریجنل ڈیولپمنٹ کواپریشن جیسے اتحاد کا حصہ تھا اور امریکہ کا ایک مضبوط اتحادی سمجھا جاتا تھا، لیکن انقلاب کے بعد اس کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی آئی۔

ڈاکٹر علقمہ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایران آج بھی عالمی طاقتوں کی “ڈکٹیشن” قبول نہیں کرتا اور ایک خودمختار مؤقف رکھتا ہے، جو امریکہ کے لیے ہمیشہ چیلنج رہا ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ ترکی نے بھی وقت کے ساتھ امریکہ پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان اب بھی کسی نہ کسی حد تک امریکی اثر میں رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ 1958 کے بعد آنے والی فوجی حکومتیں ہیں، خاص طور پر ایوب خان کا دور، جب پاکستان کو امریکہ سے بڑی معاشی امداد ملی۔

انہوں نے بتایا کہ اس دور میں ڈاکٹر محبوب الحق جیسے ماہرین نے معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی، تاہم بعد میں خود انہی ماہرین نے پالیسیوں میں خامیوں کی نشاندہی کی، جیسا کہ ان کے معروف مضمون “Seven Sins of Economic Managers” میں بیان کیا گیا۔

ڈاکٹر علقمہ کے مطابق عالمی نظام بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوا، جہاں دو by pollar  سے دنیا نکل کر multi pollar نظام کی طرف بڑھ گئی، جس میں امریکہ، روس، یورپ، چین اور جاپان جیسے طاقت کے مراکز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ جاپان کا سیاسی کردار نسبتاً محدود ہو گیا ہے، لیکن معاشی طور پر وہ آج بھی ایک بڑی طاقت ہے، جبکہ چین، امریکہ اور روس کے درمیان مسابقت عالمی سیاست کا مرکزی پہلو بن چکی ہے۔